،، سفارتخانہ اور ہم ،، ایک جائزہ

سفارتخانہ اور ہم
ایک جائزہ نوکِ قلم ۔۔ بشیر شاد
۔۔۔۔۔۔ ہیلو ۔۔۔۔۔۔۔
ہیلو ۔۔۔ ہیلو
جی ۔۔ السلام علیکم
آپ کہاں سے بول رہے ہیں ؟
جی سفارتخانہ پاکستان ایتھنز سے ۔۔۔۔ آپ کون صاحب بول رہے ہیں ۔۔۔۔
تو مجھے پہچانانہیں ابھی پرسوں میں نے کال کی تھی ۔
جی بولیں کوئی مسلہ اگر ہے تو بتائیں ۔۔۔
بتانے کو تو بہت ساری مشکلات ہیں لیکن ان کا کوئی حل نہیں نکلتا ۔
آپ کو اگر کوئی شکایت یا مشکل درپیش ہے تو ریکارڈ کروائیں ۔۔۔
اچھا تو فون پر ریکارڈنگ سسٹم بھی چلا دیا ہے ۔
وہ اس لیے تا کہ آپ کی مشکلات کے ازالہ کے لیے ہمیں یاد رہے۔
تو پھر آپ نے مجھے پہچانا تک نہیں ۔میں نے پرسوں بھی کہا تھا کہ مجھے جلدی پاسپورٹ چاہیئے ۔
کب جمع کروایا تھا ۔
یہی کوئی سات دن پہلے ۔۔۔
تو انتظار کریں جونہی پاکستان سے بن کر آ جائے گا آپ کو فون کرکے بتا دیا جائے گا ۔
کون بتاتا ہے جی ابھی تین دن پہلے میں نے کال کی تھی آپ نے مجھے پہچانا تک نہیں ۔
ابھی ایک اور پیغام آ رہا ہے فون پر ، آپ ایسے کریں جو رسید آپ کو پاسپورٹ کے لئے دے رکھی ہے اس پر تاریخ بھی لکھی ہوئی ہے اس وقت فون کیجئے گا ۔۔ ہیلو ہیلو ۔۔۔
جی السلام علیکم
وعلیکم السلام آپ کہاں سے بول رہے ہیں ؟
سفارتخانہ پاکستان سے ۔۔۔
جی کیا کہا سفارتخانہ سے ، واقعی ۔۔ سچ کہہ رہے ہیں ناں ۔
کوئی مسلہ ہے تو بتائیں ۔
مسلہ تو ہے میراجگری دوست بہت دور ایک جزیرے میں کام کرتا ہے اس کا پاسپورٹ جمع کروانا ہے وہ میں ایمبیسی میں اس کی جگہ کروا سکتا ہوں ۔۔۔
آپ اس کی جگہ یہ کام مت کریں وہ خود اسے آن لائن جمع کروا سکتا ہے ۔۔
جی ایڈے پڑھے لکھے ہندے تے تیاڈا ترلا کیوں کر دے چنگا رب راکھا ۔
ہیلو ، ہیلو پاکستان ایمبیسی ۔۔۔۔
جی جناب تھوڑا ہولڈ رکھیں میں دوسرے فون پر یونانی اعلی حکام سے بات ختم کرکے آپ کی کال لیتا ہوں کے ساتھ ہی کال کٹ گئی ۔ تھوڑی دیر بعد پھر فون کا سلسلہ شروع ہو گیا اور ایک تحکمانہ سی رنجش سے لبریز آواز جو پردہ ِ سماعت سے ٹکرائی تو ایسے لگا کہ بات کرنے والا ادب کے معاملے میں بالکل نابلد ہے ۔ ایمبیسی والے کیا کر رہے ہیں ۔ وہ لڑکا ترکی تک تو فون کرتا رہا پھر کون سی نہر میںڈوب گیا ہے۔ اسے زمین نگل گئی آسمان کھا گیا ہے ۔ آپ یہ چاہتے ہیں کہ بات میڈیا تک پہنچائی جائے اور اخبارات کی شہ سرخیاں لگیں تو پھر آپ کوئی قدم اٹھائیں گے ۔ میری بات کروائیں پاکستانی سفیر سے ۔۔۔۔
آپ پاکستانی سفیر سے ہی ہمکلام ہیں ۔۔۔
لو اور سن لیں آپ اگر سفیر بات کر رہیں ہیں تو جواب دیں ایک پاکستانی شہری کہاں گیا ۔۔
اب میری بات بھی سن لیں تو ۔۔۔
ہاں جی سنائیں ۔۔۔۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ ہر ملک کا شہری کسی دوسرے ملک میں جانے سے پہلے اگر ویزا لگوا کے جائے تو قانونی طور وہ مضبوط ہوتا ہے اسے ڈنکی جیسے مہلک سفر کی غیر قانونی مشکلات کا سامنا نہںکرنا پڑتا۔
ہم نے اپنے طور نہ صرف یونانی اعلی حکام سے اس بارے تفتیش کرنے کی درخواست کی ہے بلکہ اوم ادارہ کو بھی اس کے بارے ہسپتالوں میں تلاش کرنے کو کہا ہے ۔ پریس ریلیز بھی جاری کیں ہیں ۔ میری تو دلی دعا ہے کہ وہ زندہ سلامت ہو اور ہم اس کی ہر صورت مدد کر سکیں ۔۔۔
آپ کا نام کیا ہے ۔۔۔ ؟
جی میرا نام خالد عثمان قیصر ہے ۔ حکومتِ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی جانب سے ایتھنز یونان میں بطور سفیر خدمات سرانجام دے رہا ہوں ۔ آپ بے فکر ہو جائیں ہمیں جونہی کوئی جواب ملا آپ کو اسی فون پر بتا دیا جائے گا ۔۔ !!
تھوڑی ہی دیر میں پھر وہی فون آیا تو وہ انتہائی نرم لب و لہجہ میں شکریہ ادا کر رہا تھا ۔
ایک فون بار بار آ رہا تھا لیکن بغیر نمبر کے ۔۔۔ اب پریشانی کا یہ عالم ہے کہ بار بار اس فون پر نطر تو پڑتی ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ بات کرنے والا اپنی پہلی شناخت تو کروائے ۔
میں سفیرِمحترم سے ملاقات کے لئے گیا یہی سوچتا رہا کہ یہ فون جو پبلک کی سہولت کے لئے دیا گیا ہے اس کا استعمال اور گفت و شنید کو سن کر یوں لگا کہ سفیرِ محترم یونان میں بھی وہ سبق پاکستانی ہر شہری کو ازبر کروا رہیں ہیں جو وہ پاکستان فارن سروس کے طلبا و طالبات کو سکھاتے آئے ہیں یعنی اصل ،، سفارتکار کون ہوتا ہے اور اس میں کون سی صفات ہوتی ہیں ،، بیشک یہ ایک طویل باب ہے کسی اگلے کالم میں اس پر تفصیلی تحریر رقم کروں گا لیکن اس وقت اس کی ایک شق جس پر عزت مآب سفیرِ پاکستان پوری طرح عمل پیرا ہیں وہ یہی ہے کہ جس میں بات سننے کا حوصلہ اور اپنی بات دلائل سے پیش کرنے کی ہمت نہ ہو وہ سفیر ہوتے ہوئے بھی سفیر کے اصل مقام تک نہیں پہنچ سکتا ۔
بہت سے باتیں جو میں نے اپنے ہموطنوں میں دیکھیں ہیں وہ ہمارے وقار کے منافی ہیں ۔اگر درج چند نقاط کو اپنے سامنے رکھ کر جائزہ لیا جائے تو بہت ممکن ہے یہ دورانیہ سنہری ہو ۔
۱۔ سفارتخانہ پاکستان میں آپ اپنا کام خود کروانے جائیں اور اپنے ساتھ دوسروں کو نہ لے جائیں
۲۔ سفارتخانہ کے اندر کشادہ جگہ ہے ،جہاں بیٹھنے کا خاطر خواہ انتظام ہے۔
۳۔ آپ کی مدد کے لئے فارم وہیں سے پر کیے جاتے ہیں ۔
۴۔ اپنی باری پر اپنا کام کروائیں کسی سفارش یا رشوت کی سوچ دماغ سے نکال دیں ۔
۵ ۔ فون پر شائستہ گفت و شنید کیجئے اور فون کرتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھیںکہ آپ جیسے اور پاکستانی شہری بھی اس فون پر اپنی مشکلات کا ازالہ چاہتے ہیں ۔
۶۔ سفارتخانہ کا تمام عملہ آپ سب کے لئے خدمات سر انجام دے رہا ہے ان سے بہتر رویہ رکھیں ۔
۷۔ پاکستان کا وقارآپکے بہتر کردار سے بلند ہو سکتا ہے کیونکہ اصل سفیر آپ بھی ہیں ۔
۸ ۔ یکجہتی سے یومِ پاکستان میں بروقت اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ تشریف لایا کریں ۔
چوہدری محمد بشیر شاد ۵۱ مارچ ۷۱۰۲ ء ایتھنز ۔ یونان

اپنا تبصرہ بھیجیں