،، رائگاں زندگی ،، خدیجہ کشمیری

حقائق افسانوی سلسلہ سیزن-05 “عشق و محبت”
افسانہ نمبر 47
عنوان : رائگاں زندگی
تحریر : خدیجہ کشمیری
عشق محبت کی پاٹ شالا ادھر نہیں، اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں نکل پڑا عاشق بننے۔ سنو میری بات پڑھائی اچھے سے کرتا ہوں ساتھ میں بابا کے آفس ایک دن جاتا ہوں وہ بھی اتنی ہی اجازت ہے بابا کی ۔بابا سمجھتے ہیں وہاں اخبار اور ناولوں میں محبت کرنے کے فنڈھے پڑھتا ہوں اب وہ بھی بند کرو تو کیا جس سے لگے میں سنجیدہ ہوں۔زندگی کی رنگین مزاجی چھوڑ اور پڑھائی پر اچھے سے توجہ دو اور کچھ نہیں۔آگے پرفیشنل ا متحان میں حصہ لے کر خود کی قابلیت کا لوہا منوا سکتے ہوں۔اماں میں زندگی کو بھر پور جینا چاہتا ہوں رابریٹ بن کر نہیں بس کام کام اور کام۔جو تم کہ رہے ہوں سعدیہ کا ہاتھ مانگوں میں تمارے لئے لیکن اُس کے رہن سہن میں اور ہمارے رہن سہن میں بہت فرق ہیں نہیں ایڈجسٹ کر پائے گی ۔
مجھے معلوم ہے اماں ابا سے آپ بات کر کے دیکھو پلیز میرے لئے آگے آپ سے کچھ نہیں مانگو ں گا۔بات مانی گئی منگنی کے دوسال بعد یاسر اور سعدیہ کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد شادی کر دی گی لیکن شادی کے کچھ دن کے بعد سعدیہ میکے میں رہنے لگی جس کی وجہ سے یاسر بھی سسرال میں رہنے لگا۔ایک دن یاسر کو ماں کی کہی بات یاد آگئی بیٹا زندگی کو غلط موڑ دے رہے ہوں کئی ایسا نہ ہوہم تم کو کھو دیں اور تم ہم کو‛
آنسو کب بہنے شروع ہوگے پتہ ہی نہیں چلا.آفس کی طرف این جی او کے وساطت سے بزرگوں سے ملنے اُولڈ ھوم جاکے آحساس ہوا کئی دنوں سے نہ والدین کو فون کیا نہ ہی ملنے گیا۔اچانک گھر والدین سے ملنے گیا دیکھا بابا کے سراہنے ڈاکٹر بیٹھا دوائی کے ساتھ کچھ ضروری ہدایت دے رہا تھا۔
حیران پریشان ماں سے سوال کرتے ہوے اماں یہ کب کیسے ہوا ۔بیٹا والدین بھی بچوں سے محبت کرتے بے غرض بے لوث بن مانگے ہم نے تم کو سب دیا اور تم نے؟؟؟؟

اپنا تبصرہ بھیجیں