،، خواب ہمارے ،، خدیجہ کشمیری

خواب ہمارے
چڑیوں کی چہچاہٹ صبح صبح سننا کتنا پیارا لگتا ہے.بابا چڑیوں کی چہچاہٹ کتنی اچھی لگتی ہے کیا میں آپ کی بتاےہوئے باتوں پر بڑی ہو کر عمل پیرا ہوسکتی ہوں ہاں کیوں نہیں میری جان میں چاہتا ہوں تمارے نام سے پہچان بنے زمرود کا بابا ہیں,خوشی سے بابا کا ہاتھ کو بوسہ دے کر سونے چلی گی .بستر میں جا کر گہری نید سو گی یہ کیا بابا سانپ سانپ سانپ مجھے بچاؤ ڈر کے مارے جاگ گی پسینے سے شرابور .یہ سلسلے کہ دن چلتا رہا سونے سے ہی ڈرنے لگی جاؤبیٹا سوجاؤ نہیں اماں جب میں سوتی ہوں سانپ دیکھ جاتا ہے کیا کرو میں قرآن شریف کی تلاوت کر کے جاگی رہتی ہوں مجھے نہیں سونا.ارے بیٹا ایسا نہیں کہتے جاؤ بچہ تماری بہنوئی کو بول کے تاویذ منگوا دو گی.بخار 102ہوگیا سعمجھ نہیں آرہا کیا کرو کل اس کا پیپر بھی ہے.مشکل سے رات نکال کر جمال جی جا سے بات کی اما ں ,کوئی پڑھائی نہ کرنے کا بہانہ اور کچھ نہیں.غصے سے زمرودہ باہر چلی گی کیا کہ رہو یہ بچاری پڑھائی میں معصروف رہتی ہے ایک ہفتے سے حالات غیر ہوتی جاہی ہے کیا کرو میں اس بچی کا.کوئی کہ رہا کسی نوجوان کو اس پر نظر ہے پسند کرتا ہے غرض جتنے منہ اتنی باتیں.بابا میں کرو اس خواب نہ جینے دے رہا نہ مرنے دے رہا ہے اگر مجھے کوئی ڈانٹتا کل اسے بخار ہوجاتا ہے میں کیا کرو.یہ خواب دن مہینوں سالوں کے ساتھ چلتا گیا.زمردہ بس ڈائری لکھتی رہتی آنا جانا بند بس والدین کی لاڈلی ہو کر رہ گی.اکتبور کو خواب دیکھا سفید سانپ دودھ پینے کو کہ کر چھوٹا سانپ یہ تمارا ہیں یہ دودھ پیو ڈر کے مارے چلانے لگی اماں بابا میں بچ گی اب خواب نہیں آیا کرے گا مجھے سانپ نے کہا اور دودھ بھی دیا پینے کے لے اور چھوٹا سانپ ی تمارا ہیں اب.:ازقلم:خدیجہ کشمیری

اپنا تبصرہ بھیجیں