،، تیری باتوں میں ، میں کہاں ہوں ،، وفا سعادت

حقائق افسانوی سلسلہ سیزن-05 “عشق و محبت”
افسانہ نمبر 49
عنوان : تیری باتوں میں، میں کہاں ہوں
تحریر : وفا سعادت (سعودی عرب)
کیا ہوا آواز کیوں اتنی بجھی بجھی ھے؟ اداس اور ڈھیلی ڈھیلی لگ رہی ہو؟
نہیں تو کچھ نہيں ہوا.. آپ نے جتنا پوچھا تھا اتنا جواب دے دیا، اور چپ هو گئی.. پھر آپ کچھ بولے ھی نھيں تو ميں کیا بولوں؟
آپ کچھ بولتی تو ھوتی ھو ناں؟
آپ کچھ بولیں گے تو ميں بولوں گی ناں..!
رات کے سوا باره بج رھے تھے.. کچھ ھی لمحوں پہلے وہ اسکے بھت قریب تھا بھت.. مگر اس کی ذات سے صدیوں کے فاصلے پر… خاموشی مسلسل ان کے درمیان حائل رھی جسکے دورانیے میں اسے لگا وه سو چکی ھے. ليكن اسكی سانسيں اسكی سماعتوں كو چيرتی اسكے كان ميں گهل رهی تهيں.. کال یونھی چلتی رھی.. گھنٹہ پورا ھوا اور 11:59 پر فون بند ھو گیا…
اب ساڑھے باره ھونے کو آ رھے ھیں..نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی وه اسے کیسے بتاتی کہ درد اندر ھی اندر پھیل رہا ھے اور خاموشی کے وقفے میں آنکھيں بھی نم ھو چلی ھیں..لیکن اس نے بھنک بھی نہ پڑنے دی..
الوداعی خاموشی اور بات ذرا حساس ھونے سے بھی پہلے وه دوران گفتگو کچھ اور بھی کہہ رہا تھا:
جان اپنا دیدار نھیں کراؤ گی..؟
میرے پاس تصویریں نھیں… پچھلے دو دن سے شاور بھی نھیں لیا نہ ھی تین دن سے سوٹ بدلا ھے! ایسے ميں کیا تصویر کھینچ کر بھیجوں؟ اچھی نھیں لگ رھی.. یہ کہہ کر وه چپ ھو گئی …
نھيں ناں جان! آپ خوب صورت ھو نفیس ھو.. اس حالت میں بھی بری نھیں لگتی .. پلیز بھیجو ناں.. پلیززز… پلیززز…
وو ششدر ره گئی.. کسی بھی بات میں دلچسپی لئے بغیر وه دلربا کے چہر ے اور دلکش سراپے کو ھی دیکھنے پر بضد رہا ليكن پس پرده جھریوں سے اٹی روح کو دیکھنے سے قاصر…
وه خیالوں کی وادی میں بھٹکتی رھی.. خیال تھے کہ اسے اپنے بندھن سے مکت ھی نہ کر پا رھے تھے: درد اور خاموشی کی دیوار ھمارے درمیان حائل رھی.. اپنے درد کی خلیج کو میں اکیلے نھیں پاٹ سکتی تھی مگر وه تو انا کی دیوار گرا سکتے تھے ناں.. جو مظبوطی سے اور بھی بلند ھوتی گئی.. خصوصاََ جب وه بولے:
بول کیوں نھيں رھی؟ .. کچھ بولو! چپ کیوں ھو؟ .. بات نھیں کرنا چاھتی؟ مجھے لگتا ھے میں زبردستی بلوانے کی کوشش کر رہا ھوں!
کیا یہ طريقہ ھوتا ھے بلوانے کا؟ وه سوچتی ھی ره گئی..
اسی دن دوپہر.. وه بڑے انہما ک سے اپنے پروجیکٹس کی تفصیلات بتاتا رہا.. ڈیھڑھ گھنٹے کی مسلسل گفتگو کے بعد وه یکدم بولا: مجھے جانا ھے.. اسے تشنہ سا محسوس ھوا جیسے کچھ ھونے سے ره گیا ھو.. کب اسنے بائیک سٹارٹ کی، روانہ ھوا اور پتا ھی نا چلا.. اور وه بھی بجھی بجھی اپنے کاموں میں جت گئی.. دن بھر کی مصروفیت کے بعد وه کمرے ميں داخل ھوئی تو کال کا ایک میسج کر ڈالا.. دیکھا تو شام 6.41 کی ایک مسڈ کال بھی تھی.. ٹھیک بیس منٹ بعد .. رات نو بجے کے قریب..
آپکے میسج کی آواز نھیں آئی “sorry” ابھی ٹائم دیکھنے کے لئے موبائل اٹھایا تو آپکو کال کی..
جی ٹھیک.. وه بولی..
میں تو آپ ھی کے بتانے کا انتظار کر رہا
تھا.. صبح بھی کالز کیں.. شام کو بھی.. مگر آپ نے….
صبح سورھی تھی..شام میں مصروف … اور پھر سے اس نے بزنس ٹورز اور میٹنگز پر بحث چھیڑ دی.. اپنی ساری گفتگو میں وه اس سے اتنا ھی پوچھ پایا:
کیا کھا رھی ھو؟
چاول … یہ کہہ کر وه چپ ھو گئی.. اور وه بولتا ھی چلا گیا…
اچھا دو منٹ.. ميں ہاتھ دھو کر آئی.. اس دوران خیال کے دریچے سے ایک سوچ نے اندر جھانکا:
کال انھوں نے میرے لئے کی ھے؟ .. یا اپنے لئے…؟
خود کو سنبھالتے ھوئے: خدارا کچھ مت کہنا! کوئی بدمزگی نہ پیدا ھو جائے.. ان سے کوئی امید مت رکھو!
تم بھی ویسا ھی کرو تو بات شاید نارمل رھےگی.. لیکن یہ سب اسے نارمل کہاں رکھنے والا تھا؟ رشتے کی نوعیت پکار پکار کے اس سب کا تقاضا کر رھی تھی..وه لاکھ اپنے جذبات دباتی رھی.. ليكن ایک اور خیال نے ابھر کر دستک دی:
کیا وه جان بوجھ کر ایسا كر رهے هيں؟
یا وه مصروف هيں؟؟ اسے یقین نھيں آ رہا تھا..
ھیلو .. وه بولی..
ھیلو .. اچھا تو میں کہہ رہا تھا.. همارے باس بھت جلد ھمیں چائنہ لے جانے والے ھیں..وه چپ سادھے ہوں ہاں، ہوں ہاں کرتی رہی..
جان آج سارا دن آپ کو بھت مس کیا!
شاید کچھ محسوس کرکے وه بولا..
آپ کو اپنا خط پڑھ کے سناؤں؟ کتنے دنوں سے یہ لکھنے کا سوچ رہا تھا..
پچھلے پورے سال سے آپ نے ایسی ہی باتیں کی ہیں..
کیا مطلب؟
جیسا کہ آپ نے خط میں کہا: مجھے دریافت کرتے کرتے جلدیں بھر جائیں، تو پچھلے پورے سال سے جو آپ نے “describe” کیا اتنا زیادہ .. وه آج لکھا پہلی بار، یہ کہا ھے ميں نے..
جان آج کا دن بہت اھم ھے.. بہت اہم.. بہت مس کیا آپکو.. (مصنوعی لہجے میں وه دہراتا رہا)
جی … جی (اور وه سنتی رہی)
اچھا… پاس آؤ نا..!
جی نھیں! ہنسی ہنسی میں اس نے منع کر دیا..
اچھا کیا کروں؟
ریسٹ کریں!
نھیں ناں! آپکے ساتھ ریسٹ کرنا ھے..
نہیں جائیں پھر کام کریں!
آپ کو لگتا ھے میں کام ختم کر کے آپکے پاس آیا ھوں؟
نھیں، نھیں میں نے ایسا تو نھیں کہا!
آج آپ پر جرمانہ ھے میرا !!
آپ پر بھی جرمانہ ھے میرا !!! وه بولی؟
سنجیده ھو کر .. کیسا جرمانہ ؟
نھیں، نھیں.. میں آپ کی بات.. آپ ھی کو کر رہی تھی! کہہ کر وہ چپ ہو گئی..اور وه بھی چپ…خاموشی بڑھتی جا رھی تھی.. خاموشی کو چیرتے ہوئے وه بولا:
کیا بات ھے بتاؤ؟ بول کیوں نھیں رھی؟ .. بولو نا! کچھ چھپا رہی ھو؟ کوئی بات ھےتو بتا دو؟
نھیں کچھ نھیں … کوئی بات نھیں ..
پچھلے تین دن سے آپکے آنے کا انتظار کر رہا ھوں پر آپ نھیں ھو میرے ساتھ ..
بتاؤ نا كيا بات هے. کہہ دو جو كچھ بهی هے..
اپنے منہ سے كہہ دوں تو كيا فائده؟ بات تو وه هے جو آپ خود جانيں.. ميں تو آپ کی خاموشی كو بھی سمجھ ليتی ہوں… پهر آپ ……..؟
نہيں ناں.. پلیز بتاؤ! بتا دو اور نکالو
مجھے اس سے..
تھوڑا اصرار كرنے پر، آج سارا دن گزر گیا آپ نے اتنا بھی نہیں پوچھا.. کیا پہنا؟ سجی سنوری؟ کچھ سپیشل پکایا؟ كوئی پروگرام؟
ارے کل ھی تو آپ کو ان باکس میں کارڈز send کئے تھے كہ آپکو پسند ہیں، سالگرہ کی مبارکباد دی، خط لکھ کے اتنی اچھی presentation بھی… اور کیا کروں میں؟ میری سالگرہ آپکی وجہ سے اھم تھی صرف اتنا نھیں پوچھ سکتے تھےکیا پہنا؟ نارمل روٹین میں تو پوچھ ھی لیتے هوتے ھیں؟ تو پھر آج کیوں نھیں؟
بھت TypicaL ھو آپ..! وه جھٹ سے بولا.. اسکے دل کو زوردار دھچكہ لگا اور ایک گرما گرم آنسو گال پر پهسلتا ھوا تیزی سے بہ گیا.. یک بیک ذہن میں يہ الفاظ گردش کرنے لگے: “ھم خود آپ کے لئے کیک لے کر آئیں گے”… کچھ ھی روز پہلے وه اپنی کولیگ نخبہ سے کہہ رہا تھا… (يہاں TypicaL ميں هوں يا ميرے شوهر وه سوچنے لگی)..
مزید ایک اور طنز اور الزام نے نشتروں كا كام كيا: بھت بلند معیارات ھیں آپکے!!!
میں نے کچھ مانگا تو نھیں آپ سے.. معصوم خواہشات، بلند معیارات ہیں کیا؟تو پھر میں اور کیا کروں؟؟
احساسات سے عاری سرد لہجے نے جذبوں کے سبھی محل مسمار کر دئیے تھے..
میں جو مرضی کر لوں آپ مجھے ناکام کر کے چھوڑتی ہو! (سخت لہجے میں)
تھک گیا ہوں میں… (خاموشی کا طویل وقفہ)
مجیب کی باتیں بار بار اسکے ذہن پر ہتھوڑا بن کے برستی رہیں..
حمیرا…! تمھاری باتوں میں.. میں کہاں ہوں؟ تم نظر انداز کر گئی ہو! اس بارے میں بات تک نہیں کی! اس بات پر تو آ ہی نہیں رہی ہو! ایک لفظ بھی نہیں کہا، میں کہاں ہوں تمھاری باتوں میں؟؟؟ بتاؤ کہاں ھوں..؟؟
کال منقطع ھوئے کتنی دیر ھو چکی تھی.. اگلے سال میں ساری فون کالز بند کر دوں گی… گھر سے دور… کہیں بہت دور چلی جاؤں گی… نفرت ھے مجھے جنم دن کے نام سے بھی! … سوچوں میں گم اس کی بند آنکھوں سے آنسو نکل نکل کر رات بھر تکیے میں جذب ہوتے رہے…

اپنا تبصرہ بھیجیں