،، تکلیف اور احسان ،، میاں صداقت حسین ساجد

نمبر14
عنوان : تکلیف اور احسان
میاں صداقت حسین ساجد
7 hrs
دو دوست کسی ریگستان میں سے گزر رہے تھے. ایک جگہ کسی بات پر ان کی بحث ہو گئ. یہ بحث جھگڑے میں بدل گئ، تو ایک دوست نے دوسرے کو تھپڑ جڑ دیا. تھپڑ کھانے والے کو کو دکھ تو بہت ہوا، لیکن اس نے کچھ کہے بغیر ریت پر لکھا.
” آج میرے بہترین دوست نے مجھے تھپڑ مارا. ”
چلتے چلتے ایک نخلستان آ گیا. وہاں انھوں نے کنویں میں نہانے کا فیصلہ کر لیا. جسے تھپڑ لگا تھا، اس کا پاؤں پھسلا اور وہ گہرے پانی میں ڈوبنے لگا. یہ دیکھ کر دوسرے دوست سے رہا نہ گیا اور اس نے اسے ڈوبنے سے بچا لیا. جب اس کے حواس کچھ بحال ہوئے، تو اس نے ایک پتھر پر لکھا.
” آج میرے بہترین دوست نے میری جان بچائی. ”
یہ دیکھ کر دوسرا دوست خاموش نہ رہ سکا. اس نے پوچھا.
” میں نے تمھیں تھپڑ مارا، تو تم نے ریت پر لکھا…… اب جب میں نے تمھیں ڈوبنے سے بچایا، تو تم نے پتھر پر لکھا….. اس کا کیا مطلب ہے؟ ”
تھپڑ کھانے والا دوست مسکرا اٹھا اور بولا.
” تم نے تھپڑ مارا، تو میں نے ریت پر اس لیے لکھا تاکہ ہوا اسے جلد مٹا دے اور یوں میں اس بات کو بھول جائوں…… جب تم نے میری جان بچائی، تو میں نے اس لیے اسے پتھر پر لکھا تاکہ میں تمھارا یہ احسان ہمیشہ یاد رکھوں. ”
یہ سن کر وہ دھک سے رہ گیا.

اپنا تبصرہ بھیجیں