،، بیٹی تو رحمت ہے ،، امیر مشوانی

نمبر 11
عُنوان : بیٹی تو رحمت ہے
امیر مشوانی
یوں تو زندگی میں بہت سے ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جو کہ انسان نہیں بهول سکتا لیکن آج میں جس واقعہ کو قلم بند کر رہا ہوں_ یہ میری زندگی کا بہت ہی کربناک اور ناقابل فراموش واقعہ ہے_
ہمارا ایک رشتہ دار تھا_جس کا نام شیر تها _اس کے بڑی بیٹی جس کا نام پلوشہ تها اس کی شادی اپنے تایا زاد سے ہوئی تھی اور دوسری جس کا نام شمیم تھا اس کی شادی اپنے ماموں زاد سے ہوئی تھی_
پلوشہ کی شادی کی بعد اپنے شوہر سے نہیں بنی _ہر روز جھگڑے ہوتے تھے میاں بیوی کے درمیان پلوشہ کا والد ہمیشہ اپنی بیٹی کا ساتھ دیتا تھا _دو سال اس طرح گزر گئے اور بالآخر پلوشہ نے طلاق لی _اس وجہ سے شیر نے اپنے بهائ سے قطع تعلق کیا اور گهر بیچ کر دوسرے علاقے میں گهر خرید کر وہاں رہنے لگا.
دو سال پہلے شیر کی اپنی بیوی سے جھگڑا ہو گیا تو وہ میکے چلی گئی _اس دوران شمیم شوہر کے گهر سے یہاں اپنے میکے آئی تھی_
چونکہ شیر کی بیوی واپس نہیں آرہی تهی .تو شیر نے اپنی بیٹی شمیم کو بهی واپس بھیجنے سے انکار کیا_
شمیم ادھر ہی رہ رہی تھی کہ وہ المیہ رونما ہوا کہ جیسے میں بهلائے نہیں بهول سکتا
شیر ایک جگہ رات کو چوکیداری کر کے بچوں کا پیٹ پالتا تھا_
گزشتہ سال گرمیوں کے موسم میں شیر حسب معمول رات کو ڈیوٹی کر کے گهر آ گیا اور سو گیا اس کے ساتھ کمرے میں پلوشہ بهئ سو رہی تھی_
پلوشہ نے بتایا کہ میں نے اپنے والد کی ایک کربناک چیخ سن کر آنکھیں کھول دیں_ تو کیا دیکھتی ہوں کہ میرے والد چہرے چارپائی جو کہ پلاسٹک کے تار سے بنی ہوئی تھی اس کے نیچے تڑپ رہے ہیں _میں نے ایک دم اٹھ کر باہر کے طرف دیکھا تو میری بہن شمیم گهر کے دروازے کی طرف بھاگ رہی تھی_ میں واپس اپنے والد کے طرف مڑ گئی میرے والد کے چہرے کے علاوہ نیچے پیٹ سے رانو تک بہت بری طرح جھلس چکا تھا _میں نے چیخیں مرنا شروع کئے تو پڑوسی آگئے اور پهر شیر کو ہسپتال منتقل کردیا_
ہوا یوں تھا کہ شمیم نے گهی کو خوب گرم کر کے اپنے والد کے اوپر ڈال دیا تھا. گهی اتنا گرم تها کہ چارپائی کے جو تار تهے وہ بھی پگھل گئے تھے. شمیم بهاگ گئی تھی اپنے سسرال. . اور شیر ایک ہفتے تک موت و حیات کے کشمکش مبتلا ہو کر بالآخر اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے_
اور جس بهائ اور بھتیجوں کے ساتھ شیر نے اپنی بیٹی کی وجہ سے قطع تعلق کیا تھا_ انہوں نے اور دوسرے رشتہ داروں نے اشکبار آنکھوں کے ساتھ اسے دفن کیا _ہر کوئی کہتا تھا کہ بھلا بیٹی بھی اپنے والد کو اس طرح کی کربناک سزا دے سکتی ہے _

اپنا تبصرہ بھیجیں