،، الجھن ،، فاطمہ عمران

برائے حقائق افسانوی سلسلہ “جیم نون افسانے”
افسانہ نمبر: 17
تحریر:فاطمہ عمران (لاہور)
عنوان: الجھن
قدموں کی آہٹ سنائی دی تو نازک سی ہانیہ مزید سکڑ گئی۔ یہ موقع ہی ایسا تھا کہ ساری خود اعتمادی دھری کی دھری رہ گئی۔ جمال کون سا ہانیہ کیلیے پرایا تھا؟۔ ۔ کتنی مشکل سے دونوں نےاپنے اپنے ماں باپ کو شادی کیلیے راضی کیا تھا۔ یوں تو ان دونوں کے خاندان کچھ ایسے بھی پرانے خیالات کے نہ تھے مگر ہانیہ کے والد جمال کی تعلیم مکمل ہونے سے پہلے اس رشتہ کے طے ہونے کے خلاف تھے۔ انکے نزدیک جمال کو تعلیم مکمل کرنے اور ایک اچھی نوکری مل جانے کے بعد کسی بھی باپ سے اسکی بیٹی کا ہاتھ مانگنے کا سوچنا چاہیے تھا۔ یہی خیال جمال کے والد کا بھی تھا کہ بیٹا پیروں پر کھڑا ہو تو کسی کے گھر رشتہ مانگنے جاتے ہوئے شرمندگی تو نہ ہو۔ مگر محبت میں زمانے کے سرد و گرم کی ہوش کہاں ہوتی یے؟ انہیں بھی محبت میں ڈوبے جوڑوں کی طرح خواہ مخواہ ہی ان دیکھی جدائی سے ڈر لگتا تھا۔ سو ضد کر کے ہانیہ نے جمال سے منگنی کی رسم تو ادا کروا ہی لی. اور اب گزشتہ چار سالوں سے اسکا منگیتر آج اسکا شوہر بن کر ہمیشہ ہمیشہ کیلیے اس کے ساتھ تھا۔
جمال پر الگ ہی سرور چھایا تھا۔ ۔ اتنے سالوں میں ہر لمحہ بہت محنت سے پاکیزہ رکھی گئی محبت آج مکمل ہونے جا رہی تھی۔ یوں تو آجکل کے زمانہ کے حساب سے کوئی ایسا پردہ انکے بیچ حائل نہ تھا مگر دونوں کا خیال یہی تھا کہ انہیں شادی سے پہلے مقررہ حد عبور نہیں کرنی چاہیے۔ اور وہ اس بات پر قائم بھی تھے۔ تو پھر بھلا آج کی رات کیسے نہ دونوں کیلیے خوشیوں کی نوید لاتی۔ ۔
جمال نے خوشی سے چہک کر ہانیہ کو قریب کیا تو وہ جھینپ گئی۔ ۔ روز گھنٹوں باتیں کرنے والے دیوانوں کے پاس آج رات بھی باتوں کا ایک خزانہ تھا۔ یوں تو وہ ہمیشہ ہی اپنی آنے والی زندگی کے بارے میں سوچا کرتے تھے مگر آج وہ لمحات اتنے قریب محسوس کرنے کا احساس ہی کچھ الگ تھا۔ باتیں کرتے کرتے جمال نے ہانیہ کو غیر محسوس انداز میں وارفتگی سے اپنے نزدیک کیا تو ہانیہ نے اسے پیچھے کر دیا۔ ایک لمحے کیلیے تو جمال حیرت میں ڈوبا مگر دوسرے ہی لمحے اسے عورت کی فطری جھجک سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔ لیکن دوسری بار بھی جب ہانیہ نے اسے باقاعدہ پیچھے کر دیا تو وہ چونک سا گیا اور بولا “کیا بات ہے۔ ملن کے جس لمحے کے لیے ہم دونوں نے دن رات دعائیں کی ہیں اچانک اس سے یہ منہ موڑنا کیسا؟ ”
ہانیہ مسکرا کر بولی “ایسی کوئی بات نہیں جمال۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو اتنا جانتے ہیں کہ آپ کو میری محبت پر شک نہیں ہونا چاہیے۔ شاید میں اپنے سب سے بہترین دوست کو یہ بات کہہ سکتی ہوں کہ شادی کی رسومات ادا کرتے کرتے میں اسقدر تھک چکی ہوں کہ ایک پل آنکھ کھولنا بھی مشکل ہو رہا ہے۔ ہمارا ملن تو ہو چکا۔ بس اجسام کا رسم ادا کرنا باقی ہے۔ تو میں چاہتی ہوں کہ یہ فریضہ ہم کل ادا کریں۔ تب تک بھرپور نیند لے کر میں بھی تروتازہ ہو جاؤں گی”
ایک لمحے کو جمال کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات ابھرے مگر دوسرے ہی لمحے ان پر قابو پاتے ہوئے وہ بولا “بس بھی کرو۔ میرے بھی کچھ خواب ہیں۔آج کے حوالے سے چند ارمان ہیں۔ کیا تمہاری نیند کیلیے سب قربان کر دوں۔تم اپنی مرضی سے میرے نکاح میں آئی ہو۔ سب کے سامنے تمہیں اپنا کر لایا ہوں۔پھر تم کیسے تیار نہیں ؟ تم جو بھی کہو آج جمال رکنے والا نہیں۔ چار سال ایک ایک پل گن کر تمہارا انتظار کیا ہے ”
ہانیہ کو بس اتنا معلوم تھا کہ اسے شور نہیں کرنا۔ ۔
اگلی صبح پورے گھر میں بات آگ کی طرح پھیل گئی۔ نئی نویلی دلہن بضد تھی کہ اسے یہاں نہیں رہنا کیونکہ رات کو اسکا “میریٹل ریپ” ہوا ہے۔
جس نے بھی سنا دبی دبی مسکان لیے آنکھوں ہی آنکھوں میں دوسرے کو اشارہ کیا۔ عورتوں نے باقاعدہ دلہن کو “نا شکری اور پاگل” قرار دیا۔ ۔ بڑی بوڑھیاں جہاں اپنے جوان کی مردانگی پر نازاں ہوئیں وہیں دلہن کو سٹھیانے کا طعنہ مارا۔ لڑکے بالے جمال کو گھیرے دل ہی دل میں اسکی مردانگی پر رشک کرتے اس سے چھیڑ چھاڑ کر رہے تھے۔
لیکن ہانیہ مسلسل بضد تھی۔ اسکے والدین ولیمے کی رسم کیلیے آئے تو مسئلہ سن کر سر تھامے رہ گئے۔ ہانیہ کی والدہ ہانیہ کو باقاعدہ کوسنا شروع ہو گئیں۔ ۔ “دماغ تو نہیں خراب ہو گیا اس لڑکی کا۔مجھے معلوم تھا یہ لڑکی ایک دن ناک کٹوائے گی۔ اس دن کے لیے تمہیں تعلیم دلوائی تھی کہ ماں باپ کو سب کے سامنے یوں شرمندہ کرو”
ہانیہ نے بھی لاکھ صفائیاں دیں۔ سو دلائل دیے۔بالآخر مجبورا مسلئہ سلجھانے کیلیے ہانیہ کے والد ہانیہ کے پاس آئے۔ گو کہ فطری جھجک لازم تھی کہ باپ بیٹی کا رشتہ تھا مگر انہیں بیٹی کا مستقبل عزیز تھا۔ اور ویسے بھی وہ ہمیشہ سے بچوں سے بات چیت کر کے انکی بات سمجھنے کو ترجیح دیتے تھے۔
وہ ہانیہ کے سامنے بیٹھتے ہوئے بولے “بولو ہانیہ بیٹا کیا مسئلہ ہے؟”
والدہ کمرے سے جانے لگیں تو والد نے انہیں اشارہ کر کے جانے سے روک دیا۔
ہانیہ روہانسی ہو گئی۔ جھجکتے، ہچکچاتے ، شرماتے بولی
“مجھے یہاں نہیں رہنا۔ جمال نے میرا میریٹل ریپ کیا ہے ”
ہانیہ کی والدہ نے یہ سنتے ہی اسے ایک بار پھر کوسنا شروع کر دیا۔ مگر والد صاحب انہیں چپ کروا کر بولے ” بیٹا ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں۔ وہاں ایسی کوئی بات سوچنا بھی گناہ ہے۔ پیاری بیٹی یہ دیکھو کہ جمال سب بزرگوں کے سامنے بھی یہی کہہ رہا کہ تم سب کے سامنے اپنی مرضی سے نکاح کیلیے ہاں کر کے اسکے ساتھ آئی ہو۔ اور پھر پہلے ہی دن اس پر الزام لگا رہی ہو۔ اور سب لوگ اسکی اس بات کی تائید بھی کر رہے۔ تو یہ بتاؤ کہ اس بات کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ ”
“لیکن پاپا ہمارے مذہب میں تو حیثیت ہے نا۔ اور ویسے بھی کیا عورت کے انسان ہونے کی کوئی حیثیت نہیں ؟ ” ہانیہ تڑپ کر بولی تو اسکے والد نے اسے پیار سے سمجھایا ” لیکن بیٹا بہت سی باتیں ہمارے رسم و رواج سے اس قدر جڑی ہوتی ہیں کہ مذہب کو ان کے بیچ لانا خرابی کا باعث بن جاتا ہے۔ اس میں قصور مذہب کا نہیں ہمارے رویوں کا ہے۔ دیکھو ہمارے مذہب میں تو عورت طلاق کا حق بھی رکھتی ہے۔ اور اسکا استعمال بھی کرتی ہے لیکن ہمارے رسم و رواج ایسی عورت کو عزت دینا تو دور کی بات الٹا اسے ہی غلط سمجھتے ہیں۔ بیوہ کے حقوق دیکھو لیکن ہمارے رسم و رواج اسے منحوس بنا دیتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے معاشرے میں “میریٹل ریپ” کی بھی ڈگری باعث فخر اور “طلاق یافتہ” ہونے کی ڈگری سے ہر لحاظ سے بہتر مانی جاتی ہے۔ تم جمال سے الگ ہو کر بھی کیا رہ پاؤ گی؟ کیا اس کا سایہ سر سے چھن جانے کے بعد میرا نام لے کر بھی اس معاشرے سے عزت لے پاؤ گی؟ نہیں میری بیٹی بالکل نہیں۔ تو سمجھداری کا مظاہرہ کرو اور اپنے لب سی لو ”
ہانیہ اس ایک لمحے سمجھ نہیں پائی کہ اسے اپنے شفیق باپ کی محبت اور سمجھداری سمجھے یا محض ایک مرد کا مشورہ۔ جو اسے ممکنہ صورتحال سے ڈرا رہا ہے۔ ۔ لیکن جو بھی تھا ہانیہ کو ایک بات اچھی طرح سمجھ آ گئی تھی ۔ اس کے کانوں میں الفاظ گونج رہے تھے “ہمارے معاشرے میں میریٹل ریپ کی ڈگری بھی باعث فخر ہے اور طلاق یافتہ ہونا گناہ”۔ ۔
اس نے سر جھکا کر ہتھیار ڈال دیے۔ ماں باپ کے چہروں پر اطمینان کی لہر دوڑ گئی۔ تھوڑی دیر پہلے اندر ہی اندر ہانپتا کانپتا دل ٹھہر کر سانس لینے لگا۔ انکی بیٹی کا گھر جو سنبھل گیا تھا۔ دلہن کے ہتھیار ڈال دینے کی خبر سن کر جمال کی بھی سانس میں سانس آئی۔ گھر بھر میں خوشی کی لہر پھر سے دوڑ گئی۔ ولیمہ کے فورا بعد ہانیہ کے والدین نے بھرے مجمع میں اجازت چاہی کہ وہ ہانیہ کو پگ پھیرے کی رسم کیلیے لے کر جانا چاہتے ہیں۔ بھلا کسے انکار ہو سکتا تھا؟ ہانیہ کی والدہ مسکراتے ہوئے بولیں “لیکن جمال کی سزا تو رہ ہی گئی۔ جمال کی سزا یہ ہے کہ ہانیہ پورے ایک ہفتے کیلیے ہمارے ساتھ رہے گی” کزنز کی ہوٹنگ کے بیچ جمال اس سزا پر بس ایک ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گیا۔ ۔ اور کوئی چارہ بھی تو نہ تھا۔ ویسے بھی یہ سزا جمال کیلیے کوئی کم تو نہ تھی کہ ایک ہفتہ اسے ہانیہ کی الفت تو دور کی بات “میریٹل ریپ” کا بھی موقع نہ ملے گا ۔ ۔ ۔ ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں