،، الارم ،، چوہدری محمد بشیر شاد

اردو ادبی محفل کا سلسلہ ،، ناقابل فراموش ،، کے لئے آخری تخلیقِ نو
عنوان ،،، الارم ،،، تحریر : چوہدری محمد بشیر شاد ایتھنز ۔ یونان
کرہِ ارض میں بسنے والی ہر ذی روح کی زندگی میں ایسے واقعات رونماآ ہوتے ہیں جو سدا کے لئے اپنے نقوش چھوڑے،، ناقابلِ فراموش ،، کے زمرے میں اپنی حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے ان گذرے لمحات کی یاد کو محفوظ رکھتے ہیں اور جب کبھی بھی یادِ ماضی عود کر آتی ہے تو ان کے عوامل من و عن آنکھوں کے چشم دید گواہ بن کر متحرک ہو جاتے ہیں، اسی طرح کا ایک واقعہ آپ سب کی نذر کرنے کی جسارت کرنے چلا ہوں ، امید واثق دارم آپ اس سے محظوظ ہوں گے۔
بنک سعودی الفرانسی مدینہ منورہ سے میری تبدیلی سعودی عرب کے شہر نجران میں بحیثیت برانچ کنٹرولر جب ہوئی تو مدینہ منورہ چھوڑنے کا قلق ہوا لیکن دل کو دلاسہ دیا کہ یہاں رہنے کی اجازت بھی تو ان کی تصدیقی مہر سے وابستہ ہے ۔ ۵۸۹۱ ءکی گرم رتوں میں نجران کی فلائٹ پکڑی اور ہوائی اڈے سے اترتے وقت ملکِ یمن کے دارالسلطنت کے آثار بھی نمایاں ہوئے ۔ہوائی اڈے پر ہمیں بنک کا ڈرائیور لینے آیا۔ بعد از علیک سلیک راستے میں بنک کی عمارت دکھاتے ہوئے ایک عالیشان عمارت کے کشادہ آہنی خود کار دروازہ کھلتے ہی اس نے کار پارکنگ میں لگا کے ہمارا سفری سامان گھر کے اندر رکھ کے چابیاں ہمارے حوالے کیں اور جانے کی اجازت چاہی ۔ وہ تو چلا گیا اور ہم نے گھر کا جائزہ لینا شروع کر دیا ایک جانب چھوٹا سا سوئمنگ پول تو دوسری جانب کیاریوں میں خوبصورت پھولوں کی رنگینیاں ، گھر کا کشادہ ڈرائنگ روم ، بیڈ روم ملحقہ واش روم ، باورچی خانہ ، مکمل فرنیچر کے ساتھ آراستہ اس رہائش میں آتے ہی سامانِ تعیش کی فراوانی مدینہ منورہ سے رخصتی کے درد کا مداوا نہ بن سکی ۔ کسک اپنی جگہ برقرار تھی کہ بیرونی دروازہ کی گھنٹی بجی ، کیمرے میں جھانکا تو کوئی اجنبی موجود پا کر خود دروازہ کھولا تو اس نے بتایا کہ اس عمارت کے متصل بنک ہوسٹل ہے چلیئے کھانا تناول فرما لیجئے اور یوں ہماری رہائش کے ساتھ ساتھ من و سلوی کا اہتمام بھی ہو گیا۔
صبح آٹھ بجے بنک تک ڈرائیور لے آیا ، بنک دروازہ پہ چوکیدار نے دروازہ وا کیا اور ہمیں بنک مینجر کے کمرے تک رسائی مل گئی ۔ تعیناتی احکامات مینجر کے سپرد کرتے ہوئے ہم نے اپنی کنٹرولر کی کرسی سنبھالنے سے قبل برانچ میں کام کرنےوالوں سے ملاقات کی اور ہیڈ کیشیر کو ساتھ لیکر بنک کے کمرے میں مضبوط دیواروں کے حصار میں دنیا بھر کی کرنسیوں سے بھرے سیف کو کھولنے والی تین چابیوں کا جائزہ لیا جو کہ مینجر ، کنٹرولر اور ہیڈ کیشیر کی حفاظت میں تھیں جب تک دو چابیاں نہ لگائی جاتیں سیف کا کوڈنہیں لگتا تھا ۔ کیشیر کے پاس اور سیف میں موجود تمام رقوم کا حساب برابر کرکے کام کی ابتدا کی ۔ مدینہ منورہ میں زندگی گذارتے ہوئے بنک سعودی فرانسی مسجدِ نبوی کے بالکل قریب تھا اور دل کی تمنائیں پوری ہوتی رہتی تھیں لیکن یہاں آ کے دل اداس اور آنکھیں بے تاب رہنے لگیں۔
نجران سے ہفتہ میں ایک بار مجھے ہیڈ آفس جدہ سے دنیا بھر کی مضبوط ساکھ کی کرنسیوں اور تھامس کک ٹریولر چیکس سے بھرے بریف کیس کو لانا ہوتا تھا جس کے لئے فرسٹ کلاس کی دو سیٹیں ،ایک میری اور ملحقہ جہاز کی کھڑکی کی جانب والی سیٹ پہ بریف کیس کاسفر کٹتا ۔ ہوئی اڈے پہ بنک گارڈ اور ڈرائیور کے ہمراہ بنک پہنچ کر مینجر یا ہیڈ کیشیر کی رفاقت میں بریف کیس سیف میں رکھ کے کوڈ گھما دیا جاتا۔
بنک کے سامنے بڑی سڑک پہ آمد و رفت چوبیس گھنٹے رہتی تھی اور بنک کے چوکیدا ر ان اپنی اپنی خدمات اپنے اوقاتِ کار میں بخوبی نبھا رہے تھے ۔ سعودی عرب میں جمعہ کی چھٹی مدینہ منورہ میں یوں گذرتی کہ دنیا بھر کی خوشیاں مل جاتی تھیں اور مکہ معظمہ میں عمرہ کی ادائیگی ، زیارات زندگی کا معمول بن گیا تھا ۔ خود کو مصروف رکھنے کے لئے ہم نے سوچا کہ ہر جمعہ صبح دو تین گھنٹے بنک میں مزید کام کر لیا جائے تو شائد سکوں میسر آ جائے ۔ جی آج جمعہ المبارک چھٹی کے روز ہم صبح ۹ بجے بنک پہنچے تو درمیانے قد کے چوکیدار نے بنک کا دروازہ کھولا مگر پنستے ہوئے یہ بھی کہا کہ آج چھٹی ہے جسے سن کر ہم نے کوئی جواب نہ دیا مگر سونے کی خرید و فروخت کی ترتیب میں وقت گذر گیا ۔ تاجر سونا ڈالرز کی ادائیگی کرکے خریدے گا اور اس کے پاس سعودی ریال ہوں گے پھر ڈالرز گولڈ خریدیں گے اس طرح ڈبل انٹری میں دونوں طرف سے بنک کو فائدہ ہو گا انہی سوچوں میں مستغرق تھا کہ ایکدم بنک کے خطرہ کا الارم متواتر بجنے لگا اور وہ چوکیدار جو بنک کے دروازے پہ متعین تھا اس نے فوری باہر سے دروازہ مقفل کرکے ہمیں دروازہ کی جانب بڑھتے دیکھ کر تفتیشی نظروں سے گھورتے ہوئے اونچی آواز میں تنبیہ کی کہ خبردار باہر کا رخ مت کرنا ، پولیس کے آنے تک اپنی کرسی پہ چپ چاپ بیٹھے رہو ۔ میں اس ناگہانی افتاد پہ بوکھلا گیا اور تین منٹس کے دورانیہ میں پولیس اندر آئی اور مجھے ہتھکڑی لگا کے کرسی پر بیٹھے رہنے کی تلقین کی ۔ الارم انہوں نے فوری بند کرکے مینجر کو فون کیا وہ نہ ملا تو ہیڈ کیشیر کو اطلاع دی جو کہ بنک کے قریب رہائش پذیر تھا اپنی چابی لے کے آ گیالیکن اتنے میں پھر سے الارم بجنے لگا ۔ پولیس اس الارم پہ دم بخود رہ گئی اور بنک میں آئے ہیڈ کیشیر کو بھی ہتھکڑی لگا دی گئی۔ اب کیشیر اور میں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے کہ پولیس کے ایک تجربہ کار نے گہری سوچ میں ڈوبے اصل محرکات کا جائزہ لیا اور اس کے چہرے کے تاثرات اس وقت ہنسی میں تبدیل ہوئے جب ایک بھاری بھرکم ٹریلر سڑک پہ سے گذرا تو پھر سے الارم بج اٹھا ۔ ہم دونوں کی ہتھکڑیاں کھول دی گئیں اور سڑک پہ ایک گٹر کا ڈھکنا ٹوٹا ہوا کسی بھی بھاری ویکل سے تھرتھراہٹ پیدا کرتا جس کا اطلاق الارم کی حساسیت کو شور مچانے پہ مجبور کر رہا تھا ۔ فنی خرابی الارم میں بھی تھی جسے دور کیا گیا اور گٹر کے ٹوٹے ہوئے ڈھکنے کو فوری بلدیہ نے بدل دیا لیکن ہم نے خود کو بھی اس واقعہ کے مدو جذر میں بدل ڈالا کہ چھٹی والے دن کام پہ آ کے اپنی عزت کا الارم نہیں بجوائیں گے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں