،، ادھورا کھیل ،، سارا احمد

نمبر13
عنوان : ادھورا کھیل
تحریر : سارا احمد (لاہور ، پاکستان)
وقت تو شائد وہی ہے مگر میں نے زندگی کے شجر پر بہار اور خزاں کو ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے دیکھا ہے اور اس کھیل کے اسرار ورموز سے ہنوز نابلد ہوں_
مشترکہ خاندانی نظام میں ڈرائیور کی موت کو بچپن کے خام اذہان نے ایک کھیل کے طور پر لیا_ بڑی عید پر قصائیوں کی مدد کرتے ہوئے تیس سالہ تنو مند ڈرائیور کو دل کا ایسا دورہ پڑا جس نے گھر کے بڑوں کو اس قیاس آرائی پر یقین کرنے پر مجبور کر دیا کہ شفقت حسین دل کا بہت چھوٹا تھا_
ایک ڈرائیور جو صبح سے رات تک بچو اور بچاؤ کے اصول پر کار بند رہ کر محتاط ڈرائیونگ کرتا رہا ہو اس کا چڑیا جتنا دل تھا…..؟ جی نہیں مانتا تھا چونکہ اس کی بیوی اور گھر والوں کا یہی کہنا تھا کہ کسی کو جان دیتے ہوئے شفقت نہیں دیکھ سکتا تھا تو سب خاموش ہو گئے_ بڑوں کی افسردگی بتدریج بڑھتی گئی کہ اگر وہ ذرا سا انکار کر دیتا تو اسے قصائیوں کے ساتھ قربانی میں مدد کو نہ کہتے مگر وقتِ مقررہ کبھی ٹل نہیں سکتا_
اس واقعہ کو چند روز گزرے تو گرمیوں کی چھٹیوں کے ابتدائی دنوں کا جوش اور ولولہ عروج پر تھا_ ہم بچے بڑوں کے سوتے ہی سب سے اوپر والی چھت پر پہنچ گئے_ گرمیوں کی دوپہر اور سورج عین ہمارے سَر پر تمازت لئے ہوئے تھا_بچے اگر موسموں کی سختیوں کے سامنے ہار مان جائیں تو کھیل ناراض اور بچپن شرمندہ ہوتا ہے_بلال ہم بچوں میں سب سے بڑا تھا_اس نے یہ تجویز سامنے رکھی کہ سلو ٹیمپو والا کھیل کھیلا جائے تاکہ چھت پر دھمک کی وجہ سے نیچے سے بلاوا نہ آجائے_ سوچ بچارکے بعد خود ہی اس نے کھیل سوچ لیا اور پھر سب بچوں کے متفقہ فیصلے اور رضامندی سے کردار نگاری کا بندر بٹوارا ہو گیا_
چھوٹےچچا کا بیٹا دنبہ اور درمیان والے چچا کے دونوں بیٹے بکرے بنا کر چارپائی کے پائے سے باندھ دئیے گئے_چھت پر ایک کمرہ تھا جہاں کپڑوں کی دھلائی کا انتظام تھا_دھونے والی شلواروں میں سے ازار بند نکال کر رسیاں بنائی گئیں_واشنگ مشین کا ڈھکن پرات بنا کر میرے آگے رکھ دیا گیا_میں دادی جان بن کر خوش تھی_تایا کے بیٹے قصائی بن کر چھوٹی چھوٹی لکڑیوں کو چھریوں کی طرح تیز کر کے بکروں پر پل پڑے_صائمہ کالے مارکر سے اپنے ہونٹوں کے اوپر باریک سی مونچھیں بنا کر شفقت حسین بن گئی_فرح اور روبی میری بہوئیں اینٹوں کا چولہا بنا کر اس میں کاغذ جلانے لگیں کہ دنبے کی خیالی کلیجی پکانے کا انتظام ان کے ذمے تھا_ اینٹوں کے چولہے میں ایک آلو ردی کے کاغذوں کے درمیان بھن رہا تھا_
ہم ہنس بھی رہے تھے ، تکرار بھی کر رہے تھے اور ایک دوسرے سے ناراض نہ ہونے کے وعدے بھی_اگلے کھیل میں چھوٹا کردار کرنے والے کو مہمانِ خصوصی بنانے کا بھی عندیہ دیا گیا_ تایا کی سب سے چھوٹی بیٹی نمرا کو سی آئی ڈی پر لگا دیا گیا کہ جیسے ہی چھاپا پڑنے کے آثار نظر آئیں فوراً مطلع کرے_ پانی کا پائپ لگا کر بکروں کو نہلایا گیا اور پانی بھی پلایا گیا اور بلال نے میری پرات میں رکھے سارے کاغذوں کو بھی گیلا کر دیا یعنی گوشت کے پارچے خراب کر دیئے_
آسمان وسیع اور قہقے پرندوں کی طرح فضاؤں میں اُڑان بھر رہے تھے_ زندگی تھی اور اسی زندگی کے درمیان موت بھی تھی جو ہم میں سے نہ جانے کس کو اپنے ساتھ لے جانے آئی تھی_بچے جنت میں زیادہ مزا کرتے ہیں نا……. ! دادی ہمیں ساری زندگی یہی کہتی آئیں لیکن اب میں کہتی ہوں بچے جنت میں نہیں اپنی ماؤں کی گود میں زیادہ آسودہ ہوتے ہیں_
موت کے اس کھیل میں بلال کی ہدایت پر شفقت حیسن کو ہارٹ اٹیک آیا_ میں وقتی طور پر دادی جان کا کردار چھوڑ کر شفقت کی بیوہ بنی اور روئی کم ہنسی زیادہ _ہم سب بچے پانی کے پائپ سے منہ لگا کر اپنی پیاس بھی بجھا رہے تھے _ صائمہ جب شفقت حسین کے مرنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے سلو موشن میں نیچے گری تو اس کے منہ میں بلال نے پانی کا پائپ اس طرح گھسیڑا کہ اس کی سانس بند ہو گئی اور ایسا اسے غوطہ آیا کہ آنکھیں باہر کو ابل پڑیں_ہم سب بچے گھبرا گئے اور نمرا نیچے سب کو بتانے دوڑی_
ڈر سے ہماری روح خشک تھی اور دل زور زور سےدھڑک کر کانوں میں بج رہا تھا_
پھوپھو جو بے اولاد تھیں اور زیادہ ادھر ہی رہتی تھیں ہمارے سروں پر آن پہنچیں_ ان کے آنے تک صائمہ کی سانسیں بحال ہو چکی تھی_ہماری حالت دیکھ کرہم سب بچوں کو انہوں نے کچھ بھی نہ کہا بلکہ چھت پر بکھری چیزیں بھی خود ہی سمیٹیں_ بلال اپنی چپل چھوڑ کر ہم سے پہلے ہی دوڑ لگا چکا تھا_
چھت سے نیچے آئے تو بلال کہیں نہیں تھا _ سارا گھر چھان مارا غسل خانے تک کنگھال لئے، اب دوبارہ اوپر گئے ، لانڈری روم دیکھا اور جہاں اس کی چپل ملی تھی وہاں پر پڑے پرانے اسٹول پر چڑھ کر ساتھ والی چھت جو ہماری دیوار سے بمشکل چار فٹ نیچے تھی ، وہاں دیکھا تو وہ سَر کے بل بیہوش پڑا تھا_ بلال مار کے ڈر سے ساتھ والوں کی چھت پر کود گیا تھا اور ہم سمجھے وہ خوف زدہ ہو کر نیچے اسٹور وغیرہ میں کہیں چھپا بیٹھا ہو گا _ دیوار سے چھت کی اونچائی اتنی زیادہ نہ تھی لیکن وہ گرا اس طرح کہ نہ چوٹ نہ خون اور تیسرے دن اسی حالت میں اسپتال کی آئی سی یو میں موت سے ہاتھ ملا کر ہم سب کو دم بخود چھوڑ گیا_
وہ اپنا کردار ادا کئے بنا ہی کھیل ادھورا چھوڑ گیا_ اس نے تین پارے حفظ کئے تھے اور شفقت حسین کی تجہیزو تدفین تک بڑوں کے ساتھ رہا تھا_اس نے دعاؤں کے علاوہ نمازِ جنازہ کی دعا بھی سیکھ رکھی تھی_ہمارے اس موت کے کھیل میں وہ مولوی صاحب بنا تھا اور اس نے نمازِ جنازہ پڑھانی تھی_ہماری اکلوتی پھوپھو کو کچھ سال بعد جب اللہ نے اولادِ نرینہ کی نعمت سے نوازہ تو ہماری خوشی اور اعتماد واپس لانے کے لئے انہوں نے اپنے بیٹے کا نام بلال رکھا لیکن ہم جانتے تھے جانے والے کبھی نہیں لوٹ کر آتے اور بلال کبھی واپس نہیں آئے گا_

اپنا تبصرہ بھیجیں