،، آمین ،، روما رضوی

حقائق افسانوی سلسلہ (“جیم نون” افسانے)
افسانہ نمبر: 15 (افسانچہ)
عنوان: آمین
تحریر: روما رضوی ، ملائشیا
بینر: فاطمہ عمران، لاہور
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
“ذرا اور اونچا پڑھو۔۔۔اقراء ۔۔۔اقراء۔۔ باسم ۔۔۔ربک الذی خلق”۔۔۔روشن نے من و عن قاری صاحب کی کہی آیت دہرائی۔۔ چہار جانب سے مبارک سلامت کی آواز گونجی۔۔قاری صاحب کو سینی میں سبز پوش کے نیچے رکھا جوڑا مٹھائی اور کچھ رقم ہدیہ کی گئی۔۔۔روشن کی عمر سات سال کی ہوگی کہ اس کو سپارہ پڑھنے سے پیشتر بسم اللہ کی تقریب میں پہلے دن قاری صاحب سے ملوایا گیا ۔۔جو اب تک مدرسے میں اس کے بڑے بھائیوں کے استاد تھے۔۔۔
اب روز وہ بھی ٹھیک تین بجے سپارہ پڑھنے مسجد جانے کا تھا ۔۔روشن جب سپارہ پڑھنے چلا جاتا تو ماں تکیئے سے لگ کر رسالہ پڑھنے بیٹھ جاتیں بھائی اور ابا اس وقت گھر پر ھوتے ہی کہاں تھے۔۔۔۔ایک دو دفعہ روشن کے گھر دیر سے آنے پر ماں نے پوچھا تو قاری صاحب نے کہا کہ سبق یاد نہیں کیا تو معمولی سی سزا دی ھے۔۔۔ ماں نے روشن کو سمجھایا اور پھر رسالہ لئے لئے جانے کب اونگھ گئیں۔۔۔۔قاری صاحب کو پڑھاتے کئی دن گزر گئے ۔۔پر عجیب بات یہ تھی کہ وقت گزرنے کے ساتھ بجائے اسکے کہ روشن استاد سے مانوس ہو۔۔وہ مدرسے جآنے کے نام پر سہم جاتا۔۔۔ماں نے سمجھایا کہ مشکل سبق ھے تو مجھ سے دھرا لیا کرو۔۔۔ننھی سی آنکھوں سے گرتے موٹے موٹے آنسو آج تک ماں کو سمجھ نہ آسکے تھے۔۔۔
قاری صاحب کا اصرار تھا کہ اسے بچوں کے ساتھ دیر تک مدرسے میں بٹھایا جائے تو وہ بہتر پڑھ سکے گا۔۔بچے کی بہتر تعلیم کے لئے ماں باپ دونوں نے جمعہ کی نماز کے بعد بھی مدرسے میں ایک دو دن بچوں کے ساتھ دیر تک بیٹھنے پر اتفاق کیا ۔۔۔۔
آج دوسرے ہی دن۔۔ سے شام ھونے کو آگئی تھی۔۔اور اب تک روشن کا پتہ نہیں تھا ۔۔۔ اسکے سب ہی دوست گھر آ چکے تھے۔۔
ماں باپ نے تلاش کرتےہوئے اب مدرسے کا رخ کیا ۔۔۔ مسجد کے اندھیرے صحن میں جہاں بے پناہوں کو پناہ حاصل ہونی چاہئے سڑھیوں کے ساتھ لٹکتا ایک ننھا مردہ جسم ۔۔۔ اپنے اوپر کئے جانے والے مظالم پر نوحہ کناں تھا۔ ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں