،،ادھوری ،، بشیر شاد

افسانہ نمبر چالیس
´،، ادھوری ،،
افسانہ نگار : چوہدری محمد بشیر شاد یونان
طویل قد و قامت ، لچکدار چھریرا بدن ، آنکھیں ہرنی جیسی، صراحی دار گردن رسیلے ہونٹوں کی من موہنی تراش گلاب کی پتیوں جیسی ملائمیت، نوک مژگاں اٹھائے تو مقتل میں آنے والوں کا تانتا بندھ جائے ۔ اپنے گھر کے آنگن کی رونق،ہر سو تتلی کی مانند یوں لامتناہی رنگوں کی آمیزش کرتی کہ اس کی مسکراہٹ میں دیکھنے والا کھو جائے۔ گالوں کی رنگت شرماتے ہوئے اور بھی نمایاں ہو جاتی جس پہ انار کی سی دلکشی کا گمان ہوتا ۔کولھوں کو چھوتے سیاہ گھٹاوں جیسے ریشمی بال جس کی چھاوں تلے ہر کسی کا سستانے کو دل چاہے اپنے سراپے کو آئنے میں دیکھتی تو دنیا و مافیہا سے بے خبر چودہ سال کی ابھرتی جوانی سے از خود سوال کرتی تو بدن میں ارتعاش سا پیدا ہو جاتا۔جوانی کی رت کا نشہ اسے کسی شہزادے کی آغوش میں پرسکون زندگی کی نوید دے رہا تھا ۔تصوراتی خمار میںخود کو سموئے شرما کے اپنی آنکھوں پہ دونوں ہاتھوںکو مسلط کئے چہرہ آئینے سے ہٹا کے کن انکھیوں سے ہاتھ کی مخروطی انگلیوں کی نرم و نازک پوروں کو تھوڑا وا کرکے پھر اپنی ایک جھلک کا جائزہ لیتی تو اپنے نقوش پہ ستواں ناک کی اٹھان میںاسے ایک نیا رخ ملتا ۔ دانتوں کی چمک اور تھوڑی کے عین وسط میں کٹاواس کے چہرے کی جاذبیت کو اجاگر کرتے اور دیکھنے والا عالم مدہوشی میں ایک ٹک اسے دیکھتا ہی رہ جاتا۔لامتناہی خواہشات اور مستقبل کے سنہری روپہلی خوابوں کی دنیا میں بسیرا کرنے والی آئینے میں چوری چھپے اپنے حسن یکتا کی مرتعش شعاوں کو شمار کرتے کرتے سن بلوغت کی سیڑھی پہ بھرپور قدم رکھ چکی تھی ۔ وہ اپنے چہرے اور بدن کو مختلف زاویوں سے شمار کر رہی تھی اور خاص کر ناک میں پیوست سات رنگے کوکے کی آئینے میں مچلتی بکھرتی رنگتوں کو بڑے ناز و نخرے سے دیکھ دیکھ کر اپنے حسن کے جلووں پہ اترا رہی تھی کہ آواز آئی۔۔۔۔
سمرن ۔۔۔ سیمی دروازہ کھولو۔۔۔۔
آئینہ چھوڑ وہ بھاگی گھر کے بیرونی دروازے کی جانب۔ اس کے تعاقب میں اس کی دس سالہ بہن اور چار سال کا بھائی بھی ابو کے آنے کی خوشی میں استقبالیہ دے رہے تھے ۔ باپ کی شفقت کا رنگ نکھرا نکھرا سا اپنی لازوال محبت کا عکاس تھا ۔ گھر کے لئے خریدا سامان وہ سمرن کے حوالے کرکے اپنی شریک حیات کو مسکراہٹ دے کر کہتا ،، دیکھو تو سمرن نے کیا قد کاٹھ نکالا ہے ،، گھر کا سب کام کاج بھی سنبھال لیا ہے اور تمہیں تو اب بہت سہولت مل گئی ہے بیگم ۔
ہاں آپ کو اب پورا موقعہ میسر آ جائے گا اپنی دوسری دونوں بیویوں کے پاس رہنے کا ۔۔
ایک تو تیرے گلے شکوے ختم نہیں ہوتے، تمہاری وجہ سے ہم پشاور واپس نہیں گئے اور بمبئی کے ہو کے رہ گئے پھر بھی ہماری محبت پہ شک کر رہی ہو ۔ سچ کہتے ہیں سیانے کہ عورت کا شک قبر تک جاتا ہے۔
اس میں شک والی کیا بات ہے بڑی بیوی اور منجھلی کے ہاں تو آپ کا دل لگ جاتا ہے میرا خیال کیوں آنے لگا ۔
اولاد جوان ہو جائے تو گھر میں لڑائی جھگڑے ، شکوے شکائیتوں کا قلع قمع کرکے اللہ کا دیا سب کچھ ہے اس کا شکر ادا کرنا چاہیئے،دس کمروں کا مکان ہے ۔ درجن بھر بگیاں اور تانگے کرائے پر ہیں اور بہترین گذر ہو رہی ہے ۔
ہاں جی یہ سب کچھ میرے نام ہی تو ہے، دوسری بیگمات اور ان کا لام لشکر کا جملہ ابھی پورا بھی نہ ہوا کہ گھر کے باہر ایک شور بپا ہوا ، بلوائیوں نے گھر کو آگ لگا دی ، ہندو مسلم فسادات کی بھینٹ چڑھنے والا یہ خاندان آن واحد سڑک پہ آ گیا ۔ بڑی مشکل سے جان بچا کے جس کا منہ جدھر کو ہوا بھاگ نکلا ، سمرن کا باپ گرتے سنبھلتے قدرے ہوش میں آیا تو اس کی کمر پہ کاری ضربات نے اسے اپاہج بنا دیا ۔ اچھے بھلے گھر اجڑ کے رہ گئے ۔ملبے کے ڈھیر پہ قدم رکھتے ہی قبضہ کرنے والوں نے وہ درگت بنائی کہ عدالت تک جانا پڑا اور اس زمین کے کاغذ نہ ہونے کی بنا پہ ملکیت مخدوش ہو گئی ۔زندگی اجیرن ہو کے رہ گئی ، باپ بڑی بیوی اور اس کی جوان اولاد کے رحم و کرم پہ بستر کا ہو کے رہ گیا ، منجھلی بیوی جہان فانی سے کوچ کر گئی اور گھرگرہستی کا سارا بوجھ سمرن پہ آن پڑا ۔ جوانی کی تمام تررنگتیں خزاں کے تھپیڑوں میں مفقود ہو گئیں ۔سمرن نے پڑھائی چھوڑ سیلز گرل بن کر روزی کمانی شروع کی ۔ وہ بھول گئی کہ آئینہ کیا ہے اس کی آنکھوں میں بہن اور بھائی کی تمنائیں سمٹ آئی تھیں ۔ صبح گھر سے نکلتی اور شام گئے تک انتھک محنت سے اپنے خاندان کی بود و باش میں اس کا انگ انگ کولھو کے بیل کی طرح جتا رہتا۔کرائے کا چھوٹا سا مکان اور اخراجات پورے کرتے کرتے اسے یہ تک نہ یاد رہا کہ اس کی عمر کا سولھواں سال لگ چکا ہے۔ارد گرد لڑکیوں کی شادیاں بھی ہو رہی تھیں ۔ زمانہ اپنی ڈگر پہ چل رہا تھا اور وہ جب اپنے باپ کی تیمارداری کرنے جاتی تو اس کی مایوس آنکھوں میں جھانکتے ہی اس کا دل پھٹ جاتا اور دل پہ ایک بوجھ لئے پھر سے کام میں مصروف ہو جاتی ۔دن گذرتے گئے اور عمر کے لحاظ سے رشتے آنے بھی شروع ہو گئے لیکن والدہ رشتوں کو ٹھکراتی چلی گئی ۔ اسے ایک دھچکا سا لگا کہ ہر بار ماں رشتہ مانگنے والوں کو جواب کیوں دیتی ہے۔ ایک دن اس نے اپنے سراپے پہ نظر ڈالی تو اس میں کوئی خرابی نظر نہ آئی البتہ چھوٹے بھائی کی مرگی کی بیماری پہ وہ اور بھی محنت کرنے لگی۔
گھر کے برابر میں لڑکے لڑکیاں اسے سارا دن گھر سے غائب رہنے پر چہ میگوئیاں بھی کرنے لگے اور آج تو ایک نے حد کر دی اس کے پیچھے پیچھے چلا آ رہا تھا ، وہ ایک دم کھڑی ہو گئی تو وہ بھی کھڑا ہو گیا ۔ عجیب آدمی ہے ، سمرن نے سر کو جھٹکا دے کر اپنا راستہ ناپا لیکن کیا مجال اس نے پیچھا چھوڑا ہو۔
یہ بتایئے آپ میرا پیچھا کیوں کر رہے ہیں ؟ میں تو کام پہ جا رہی ہوں اور آپ ۔۔
جی یہی تو دیکھنا چاہتا ہوں کہ آپ کام کون سا کرتی ہیں ؟
آپ کو اس کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے ؟ جایئے اپنا کام کیجئے اور ہمارا وقت برباد مت کیجئے ۔ ہم روزی کمانے جا رہے ہیں اور صبح صبح ہم سے متھا ماری نہ کریں تو مہربانی ہو گی۔
آپ ناراض ہوتی ہیں تو واپس چلا جاتا ہوں لیکن جب واپس آئیں گی تو دیدار کر لوں گا ۔
سمرن نے سنی ان سنی کرکے تیز رفتاری سے قدم اٹھاتے ہوئے دوری اختیار تو کر لی لیکن دماغ میں اس کی بات متحرک رہی ۔اسے اسکے کام سے کیا غرض ہے اور یہ کب سے اسے آتے جاتے دیکھ رہا ہے اس کا تو اسے اندازہ ہی نہیں تھا ۔ شام ڈھلے واپسی پہ سمرن کا دل بھی دھک دھک کرنے لگا جب اس نے دیکھا کہ وہ سر راہ اس کا منتظر تھا ۔ دل میں ہلچل مچ گئی ۔ ماں نے پہلی بار سمرن کے چہرے پہ کشادگی دیکھی اور لبوں پہ مسکان نے فکر کی لکیر ماں کی پیشانی پہ چھوڑی جس کا جائزہ لے کر سمرن نے بھانپ لیا کہ ماں کس رنگ میں ہے اسی کا رد عمل تھا کہ وہ ایک دم سنجیدہ ہو گئی ۔ شب تانے بانے بنتے گذر گئی لیکن دل و دماغ بر سرپیکار رہے کہ عمر بیتی جا رہی ہے اور اس عمر کے ارمان کی تباہی کی ذمہ دار وہ خود ہے ۔ عورت مرد کے بغیرادھوری ہے تو یہ ادھورا پن اس کی زندگی کے لئے مہلک ثابت ہو گا ۔ ماں آخر گھر اائے رشتے کیوں ٹھکراتی ہے ، کیا اسے فکر لاحق ہے کہ میری شادی کے بعد گھر کے اخراجات کون پورے کرئے گا تو یہ سراسر غلط ہے ۔ جس نے پیدا کیا ہے وہ مسبب الاسباب بھی ہے ہر کسی کو رزق عطا کرتا ہے اور گھر کے ہر فرد کو کام کرکے اپنے اخراجات پورے کرنے ہوں گے ۔ اسی ایک رویہ نے اسے باغی بنا دیا اور وہ دھیرے دھیرے اس نوجوان میں دلچسپی لینے لگی ۔اندر ہی اندر محبت کی آگ شعلوں میں تبدیلی ہونا شروع ہو گئی اور وہ ایک دوسرے سے ملنے لگے ۔ عہد و پیمان بھی عروج پہ پہنچ رہے تھے اور ان دونوں کی حرکات و سکنات کب تک پوشیدہ رہتیں ۔ محلے والے سب جانتے تھے اور ایک دن ایسا بھی آیا کہ ماں نے سختی سے سمرن کو منع کیا کہ وہ اس نجوان سے میل جول بند کر دے ۔ بات باپ تک پہنچی تو انہوں نے بھی بیوی کی طرفداری کرتے ہوئے منع کیا کیونکہ ان کے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا ، معذوری کی حالت میں ایک پیار کرنے والا باپ کتنا مجبور ہو جاتا ہے اس کا احساس سمرن کو بخوبی ہو گیا لیکن زندگی کا ہر لمحہ زوال پذیر ہو رہا تھا اور یہ وقت دوبارہ اس کی زندگی میںواپس نہیں آ سکتا تھا ۔ زندگی کے آٹھ سال اس نے محنت مزدوری کرکے گھر سنبھالے رکھا اب اس گھر کے دوسرے افراد اس میں اپنا خون پسینہ ایک کیوں نہیں کرتے۔ کیا اکیلے اسے ہی یہ قربانی دینی ہو گی لیکن کب تک ۔ ؟ یہاں پہ زندگی کی گاڑی رک جاتی تو اس کی سوچ ابھرتی کہ اسے اب شادی کر لینی چاہئے ۔ظہیر اس کی من پسند بھی تھا اور اس کے ساتھ وہ اپنا گھر بسانے کی خواہش لئے گھنٹوں سوچتی رہی کہ گھر سے قدم باہر رکھتے ہی کتنے مصائب اور مشکلات آئیں گی ان کا مقابلہ توکرنا ہو گا ۔ وہ وقت بھی قریب آ گیا جب دل کی بات مان کر لبیک کہنا پڑا ۔گھر والوں کو سوتے چھوڑ چوکھٹ پار کرکے ظہیر کے گھر کی دہلیز پہ قدم رکھتے ہی اسے محسوس ہوا کہ وہ اپنے گھر آ گئی ہے۔ دروازے پہ دستک دیتے ہی ظہیر انتہائی خوشدلی سے اس کا استقبال کر رہا تھا ، دل میں اٹھنے والے خدشات معدوم ہو گئے ۔ ظہیر کی والدہ بھی بڑے تپاک سے ملی اور حوصلہ دیا کہ صبح ہوتے ہی نکاح کرکے تم دونوں گاوں چلے جانا ۔ اگر وہاں دل نہ لگے تو ہفتہ عشرہ میں واپس آ جانا لیکن بہتری اسی میں ہے کہ یہاں کے ماحول سے دور گاوں کی تازہ ااب و ہوا میں اپنی زندگی بسر کر لینا۔
شب بھر ظہیر سے کئے عہد و پیمان کی تجدید وفا پہ گفت و شنید ہوتی رہی اور سمرن نے اپنی بچت کی جمع شدہ پونجی ظہیر کے حوالے کر دی تا کہ نکاح کے بعد اسے مالی مشکلات کا سامنا نہ ہو اور ساتھ میں یہ حوصلہ بھی روا رکھا کہ اگر گاوں نہیں جانا تو یہاں شہر میں زندگی بسر کر لیں گے کام تو میرے پاس ہے ہی اور آپ بھی چھوٹا موٹا کام کرکے گھر کے اخراجات پورے کر لیں گے اور اگر مناسب سمجھتے ہیں کہ گاوں چلا جائے تو آپ کے نقش قدم پہ چلنا میرا فرض ہے ۔
گاوں میں اپنی زمین ہے اور گائے بھینسیں کافی ہیں ، پشتوں سے ہم ان کے دودھ سے ربڑی بنا کر فروخت کرکے بہترین زندگی بسر کر رہے ہیں ، اپنے گھر کا کام ہے ، کسی کی محتاجی نہیں پھر اس کو وسعت کیوں نہ دیں ۔ ہم دونوں اپنے گھر رہیں گے اور ہمارا باپ بھی تو وہیں ہے جس چیز کی سمجھ نہ آ سکے گی وہ بتا دیں گے۔ظہیر کی ہر بات پہ سمرن ہاں کئے جا رہی تھی کیونکہ جہاں دل کا معاملہ سامنے ہو وہاں دماغ کی سوچیں پس پشت رہ جاتی ہیں اور ابھرے نقوش پہ غور نہیں کیا جاتا ۔ رات گذری اور صبح نے ایک نئی زندگی کی نوید دی ۔ قریبی مسجد میں نکاح ہوا اور وہ میاں بیوی کی حیثیت میں گھر لوٹے ۔ سمرن کے ماں باپ بہن بھائی سب رشتہ دار اس شادی کے خلاف تھے لیکن سمرن کی ثابت قدمی اپنے ادھورے پن کی آبیاری میں لگی ہوئی تھی ´۔ اپنے پختہ ارادوںسے اپنے خیالات کو سب کی مخالفت کے باوجودبام عروج تک پہنچا دیا۔اسے تو اب اپنے مجازی خدا کی خدمت میں شب و روز ایک کرنے تھے جس کے لئے وہ سر سے لے کر پاوں تک مستعد تھی ۔ اسے ظہیر کی آنکھوں میں اپنے متقبل کے سنہری خواب نظر آ رہے تھے جنہیں پورا کرنے کا بھرپور موقعہ میسر آیا ۔ بانکپن کی کلی شبنمی قطروں کی مرہون منت تھی جس کی ایک رمق سے پتیوں میں نکھار سا آ گیا اور خوبصورت پھول اپنی خوشبوہر سو پھیلانے لگا ۔ دو ماہ آنکھ جھپکتے گذر گئے اور سمرن کو لگا کہ اس کے بدن میں کوئی اور بھی موجزن ہے جس کا اظہار اس نے ظہیر سے کرتے ہوئے خوشی محسوس کی اور ظہیر نے وہاں سے کوچ کرکے گاوں جانے کی خواہش ظاہر کی ۔ سمرن کو تو اس کی کوئی بات ٹالنی ہی نہیں تھی ۔ سامان باندھ اس کے ساتھ ہو لی ۔ گاوں میں قدم رکھتے ہی ماحول شہر سے بالکل برعکس لگالیکن خاوند کی رضا میں اپنی آسودگی کو اول جانتے ہوئے نئی زندگی میں قدم رکھ لیا ۔ گائے بھینس کا دودھ دھونا تو اسے آتا ہی کہاں تھا لیکن سیکھتے سیکھتے کئی بار چوٹیں بھی آئیں ۔ سارا سارا دن گوبر اٹھا ، چارہ ڈال اور ربڑی بنا کے کھانا پکانے کے اہتمام میں گذر جاتااور شب بھراپنے خاوند کے پاوں گرم پانے سے دھو اس کے سکون میں گزر جاتی ۔ ظہیر کا خیال ہر طرح سے رکھا گیا اور پیٹ میں نومولد کی روح نمودار ہو گئی ۔ طبیعت میںکھٹی میٹھی اشیا کی طلب عجب طرح سے عود کرنے لگی ۔ظہیر اور سمرن کے دل کا ٹکڑا پیٹ میں ہلچل مچانا شروع ہو گیا ۔ رات گئے تک اس کی باتیں ہوتیں تو سمرن بیٹے کی خواہش میں باتیں کرتی جاتی اس کا نام تک رکھ لیا ۔ ظہیر کیا خیال ہے بیٹا ہوا تو اس کا نام رفیق رکھیں گے ، ارے تم تو سو گئے ہو اور میں خود ہی سے باتیں کرتی جاتی ہوں ۔ تھکاوٹ تو مجھے ہونی چاہیئے جو سارا دن ربڑی بنانے میں جان مار کرتی ہوںاور ایک آپ ہو کہ پرسکون خراٹوں میں خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہو ۔ ظہیر نے کروٹ بدلی تو سمرن بھی سمٹ سمٹا کے اس کے پہلو میں اپنے پیٹ پہ ہاتھ رکھے ماں بننے کے انمول خیالوں میں کھو گئی ۔ کتنی امنگ ہوتی ہے عورت کو ماں کے روپ میں ڈھلنے کی ، اس کے لئے کتنا کٹھن راستہ طے کرنا پڑتا ہے ۔ زمین پھاڑ کے سر ابھارنے والی کونپل کس قدر حسین و جمیل ہوتی ہے ۔خوشی سے حرکات و سکنات کرتا ہوا لوتھڑا ماں کے پیت میں کونہ کونہ چھان مارتا اورماں والہانہ انداز میں اپنا ہاتھ اس کے اوپر لے جا کے کھیلتی رہتی ۔ اس کھیل کود میں سارے دن کی تھکان دور ہو جاتی اور صبح تازہ دم سمرن پھر سے سخت جان کاموں میں مصروف ہو جاتی ۔کبھی کبھار بچہ پیٹ میں گردش نہ کرنے پر سمرن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے اور وہ اس سوچ میں سرگرداں ہو جاتی کہ شائد میری محنت سے وہ بھی تھک گیا ہے لیکن اچانک اس کے ہلنے پہ چہرے کی رونقیں بحال ہو جاتیں ۔ گاوں میں زچہ بچہ کے لئے نہ تو کوئی ہسپتال تھا اور نہ ہی ڈاکٹر ، آ جا کے گاوں کی ضعیف عورتیں بچے کی پیدائش میں اپنے تجربات سمو کر نومولد کو ماں کی گود میں رکھتیں تو زچہ کو سکون ملتا ۔ سمرن کے دن جوں جوں قریب آ رہے تھے اس کی پشیمانی میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا ۔ وہ گاوں میں بچے کی پیدائش سے خائف تھی اور جب بھی اس بات کا اظہار کرتی تو ظہیر آپے سے باہر ہو جاتا اور کئی بار اسی بات پہ سمرن کی پٹائی بھی ہوئی اور اوپر سے یہ بات بھی ہر بار دھرائی گئی کہ ہم سب اس گاوں میں پیدا ہوئے ہیں تم کوئی نرالی مخلوق ہوجو یہاں پیدائش کرنے کی بجائے بمبئی جانا چاہتی ہو ، وہان کون سا یار رکھا ہوا ہے جو تمہارے سامنے آئے گا تو تکلیف میں کمی واقع ہو جائے گی ۔ ہر روز کسی نہ کسی بہانے مار کٹائی اور اس پہ طنز و طعنوں نے زندگی اجیرن کر دی ۔ گھر سے قدم باہر رکھنے اور اپنی مرضی کا شوہر تلاش کرنے کی اتنی بڑی سزا سب کچھ اسے اپنے نئے آنے والے مہمان کے لئے سہنی پڑ رہی تھی ۔وقت گذرتا گیا ،ظلم سہتی رہی۔ وقت کبھی رکتا نہیں ، اچھا برا کٹ ہی جاتا ہے ۔ ایک شب سمرن نے ہاتھ جوڑے کہ اب نو مہینے اس بچے کو میں نے پیٹ میں رکھا ہے میری بات مان لیں اس کی پدائش بمبئی کسی ہسپتال میں ہونے دیں اور ہم راضی خوشی واپس گاوں میں آ جائیں گے اگر زچہ بچہ کو کچھ ہو گیا تو یہاں کا کام پھر کون کرئے گا ؟ س بات پہ ظہیر نے حامی بھر لی کہ صبح ہوتے ہی پہلی بس میں بمبئی چلے جائیں گے ۔ ماں گاوں میں ہے کام سنبھال لے گی ، ماضی کی تمام تکالیف سمرن کو بھول گئیں اور وہ ظہیر کے اس احسان پہ اس کے چہرے کو دیکھتے دیکھتے نیند کی آغوش میں چلی گئی۔
صبح کی پہلی کرن ظہیر کے وعدے کی غماز تھی ۔ گاوں سے قدم اٹھاتے ہوئے اسے اپنے مجازی خدا پہ بہت پیار آیا جو نہ صرف اس کے لئے بلکہ اپنے بچے کے لئے بھی بہتر سوچ رکھتا تھا ۔ بس میں بیٹھے دھیرے دھیرے سفر کٹتا گیا اور وہ واپس ظہیر کے گھر میں قدم رکھتے ہی خود کو نئی نویلی دلہن کے روپ میںدیکھ رہی تھی ۔اس کو بھول گیا کہ مویشیوں کے لئے کتنی مسافت طے کرکے پانی لانا اور دودھ دھوتے وقت کئی بار زخمی ہوکر بھی مسکراتے ہوئے کام کرنایہ سب کچھ تو وہ آنے والے مہمان کے لئے کر رہی تھی اور اب ہسپتال جاتے ہوئے اسے یوں لگا کہ اس کی تمنا پوری ہونے جا رہی ہے۔ لیڈی ڈاکٹر نے بڑی احتیاط سے تمام تشخیص مکمل کرکے اسے داخل کر لیا اور سمرن ظہیر کو دیکھتے ہوئے اس مرحلہ میںداخل ہو گئی جہاں عورت کو ماں کے پاکیزہ لفظ سے آشنائی ہوتی ہے ۔کچھ ہی دیر میںانتہائی خوبصورت گول مٹول بچہ جب اس کے پہلو میں رکھا گیا تو رفیق کے آنے کی خوشی میں سرشار اس کی بیتابی کو یکسر سکون میسر آ گیا ۔ ظہیر کے چہرے پہ بھی فاتحانہ سی مسکراہٹ تھی ۔
رفیق کے ابا میری ایک بات مانو گے ۔
کہو کیا بات ہے ؟
رفیق کی پرورش کے لئے بہتر ہے گاوں نہ جائیں۔۔
یہ تم کیا کہہ رہی ہو یاد نہیں وعدہ کرکے آئے تھے کہ رفیق کے پیدا ہوتے ہی واپس گاوں کی راہ لیں گے وہاں دودھ دہی میں پلا رفیق گھبرو جوان بنے گا اپنا کام سنبھالے گا ، اپنے کام میں عزت دے جلدی چلنے والی بات کریں ، اب ہم نے تمہاری بات مانی ہے تو اپن کے ساتھ کیا وعدہ مت توڑنا ، کیا کہیں گے گاوں والے ، بس اٹھنے والی بات کر ۔
جیسے آپ کی مرضی کہتے ہوئے بیٹے کے پیارے پیارے گدگدے سے ہاتھ پاوں کو مس کرتے ہوئے اس کی بدنی قوت بحال ہوتی جا رہی تھی ، چھاتی میں ٹھاٹھیں مارتا دودھ رسنے لگا۔ رفیق کے ملائم ہونٹوں نے شیر مادر کی لذتوں سے آشکارہ ہو کر نیند کی دیوی کے عطا کردہ خوابوں میں اپنی مسکراہٹ بکھیری تو ماں کی مسکان بھی بام عروج تک پہنچ گئی ۔یک شب ہسپتال میں گذارے میاں بیوی ایک خاندان کی صورت میں گھر لوٹے تو محلے والے مبارکباد دینا شروع ہو گئے ۔ رات گئے تک یہ سلسلہ چلتا رہا اور یوں دوسری رات گھر میں گذری اور صبح ہوتے ہی گاوں کو سدھارے ۔ گاوں کی بڑی بوڑھیاں بچے کے ہاتھ پاوں ٹٹول ٹٹول کے جائزہ لے رہی تھیں، دادا دادی نے بھی پیار کیا اور رفیق ماں کی گود میں پرورش پانے لگا ۔سمرن مسلسل کام کرتے ہوئے نقاہت محسوس تو کرتی مگر لخت جگر کے لئے اس نے زندگی وقف کر لی ۔ گھر میں چھوٹی چھوٹی باتوں پہ پار پیٹ ظہیر کے لئے معمولی بات تھی ۔ ہر کسی کا رویہ جبر کی داستان رقم کر رہا تھا ۔ چار ماہ کا رفیق سخت گرمی میں پلنگ پہ لٹا کے سمرن دور سے مویشیوں کے لئے پانی لاتی اور ہر پھیرے میں اسے ایک نظر دیکھ بھی لیتی لیکن آخری بار جب وہ واپس لوٹی تو بچے کو پلنگ پہ نہ پا کر سیخ پا ہو گئی ۔ تلاش کرتے کرتے پلنگ کے نیچے جو نظر پڑی تو بچہ ایک دم بےہوش ناک سے خون بہتا دیکھ کر ماں کے دل کو دھچکا لگا ۔ اسے یوں لگا اس کی دنیا اندھیر ہو گئی ہے ۔ اسے اٹھا سینے سے لگایا تو اس کے آنکھیںکھولنے پہ سمرن کی جان میں جان آئی ۔سمرن نے ظہیر سے شکوہ کیا کہ اس نے بچے کا خیال کیوں نہیں رکھا تو اس نے بڑی ڈھٹائی سے باچھیں وا کئے جواب دیا کہ یہ ابھی سے سخت جان ہو گا تو کل کو پولیس افسر بنے گا ۔ہم بھی ایسے پلے بڑے ہیں ، تم فکر مت کیا کرو۔
سمرن کی نیند حرام ہو گئی ، وہ شب بھر سوچتی رہی کہ جس بچے کی خاطر وہ اتنی سختیاں جھیل رہی ہے اگر اس کا مستقبل نہ سنور پایا تو یہ زندگی کس کام کی ۔ اسے بچے پہ والہانہ پیار آیا ، اسے چھاتی سے لگا دودھ پلا رہی تھی کہ ظہیر کا بلاوا آ گیا ، جی بچے کو دودھ پلا کے آتی ہوں کے الفاط منہ سے کیا نکلے ،تھپڑ ، لاتیں اور مغلات کی بوچھاڑ ہو گئی ۔گھر سے بھاگی ہوئی عورت تمہیں کسی نے یہ تک نہیں بتایا کہ سب سے پہلے اپنے مجازی خدا کی بات ماننی پڑتی ہے۔ پشیمانی میں مبتلا سمرن نے اپنا آپ ظہیر کے حوالے کر تو دیا لیکن وہ جبر جو کسی عورت پہ ناحق کرکے اپنی جنسی طلب پوری کی جائے وہ چاہت سے مبرا ہوتی ہے ۔ گرمی کی شدت ساون بھادوں کی بارشوں سے حبس میں تبدیل ہو گئی ۔ رفیق چھ ماہ کا ہو چکا تھا ۔ سر شام اس کی طبیعت کچھ خراب سی لگنے لگی ، پاخانے اور قے پہ قے کئے جا رہا تھا ، شائد ہیضہ کی شکایت تھی ، اکیلی جان سمرن اسے سنبھال رہی تھی ، کہیں سونف چھوٹی الائچی پانی میں ابال اسے پلا رہی تھی ساتھ ساتھ اس کی درازی عمر کی دعائیں بھی مانگ رہی تھی۔ نصف شب ظہیر بڑبڑاتا ہوا دیسی شراب کے نشے میں دھت گھر میں داخل ہوتے ہی اسے انگلی کے اشارے سے ہم بستری کے لئے بلا رہا تھا وہ تو پہلے ہی خوفزدہ تھی بیٹے کی بیماری کا بتایا تو اس نے زناٹے دار تھپڑ رسید کر دیا ، بالوں سے پکڑ گھسیٹتے ہوئے چارپائی پہ لے گیا ، اس کے منہ سے شراب کی بو اور ناروا سلوک ایک قہر بن کے ٹوٹا ۔ وحشیانہ ہوس اپنے اختتام کو پہنچی تو قہر آلود سرخ سرخ آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کہے جا رہا تھا کہ تمہیں صبح گاوں کے چوک میںاتنا پیٹوں گا کہ سارا گاوں دیکھے گا ۔ سمرن سہمی سمہی سی اپنے بیٹے کو آغوش میں لئے جتنی خاموشی اختیار کر رہی تھی اتنا ہی وہ غصے میں لال پیلا ہو کر آسمان سر پہ اٹھا رہا تھا ۔ سب گھر والے بیدار ہو گئے اور اس نے پھر سے سمرن کو پیٹنا شروع کر دیا اور مارتے مارتے طلاق ، طلاق ، طلاق کے الفاظ بولے تو سب وہاں سے چل دئے۔ میدان خالی ہو گیا اور وہ بستر پہ دراز خراٹے لے رہا تھا ۔ سمرن کو طلاق ہو چکی تھی اور اس کے لخت جگر کا مستقبل بھی تاریکی میں ڈوبے جا رہا تھا ، نہیں ایسا نہیں ہو گا ، جس باپ کو اپنے بیٹے کی پرواہ نہ ہو وہاں باقی ماندہ زندگی بسر کرنے کا کیا فائدہ۔ وہ بچے کی نگہداشت کرتی رہی اور صبح کے انتظار میں ایک ایک پل گن رہی تھی ۔ وہ یہاں سے بھاگ نکلنے کی سوچ میں سرگرداں رہی ۔سب گہری نیند میں دنیا و مافیہا سے بے خبر گھوڑے بیچ کے سو رہے تھے کہ سمرن نے اپنے بیٹے کو بارش سے محفوط رکھنے کے لئے ایک شال میں لپیٹے سر پہ لی چادر میں سینے سے لگایا اور ننگے پاوں دھیرے دھیرے دروازے کی چٹخنی کھول آزادی ملتے ہی سڑک کی جانب رخ کر لیا ۔ اسے نہ صرف اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے تھے بلکہ بیٹے کی بیماری کا بھی قلق تھا ۔چھہ ماہ کے معصومبیٹے کو اپنی چھاتی سے لگائے ہانپتی کامپتی پکی سڑک تک آ پہنچی۔خوف و ہراس کی لہر اس کے ذہن پہ ہتھوڑے برسا رہی تھی ۔وہ مڑ مڑ کے گاوں کی پگڈنڈیوں پہ نظر دوڑاتی اپنے بیٹے کو شال میں بار بار لپیٹ رہی تھی مبادا اسے سردی نہ لگ جائے۔ اسی اضطراری حالت میں اسے ماضی کے ایک ایک لمحے کی تلخیاں مایوسی کے گڑھوں میں دفن کر رہی تھیں ۔وہ آج تک خود کو مکمل نہیں کر پائی تھی لیکن اب اسے اپنے لخت جگر کے لئے زندہ رہنا ہے ۔اپنی سوچوں میں مستغرق دور سے ایک امید کی کرن کی جھلک دکھائی دی ۔ جوں جوں بس قریب سے قریب ترآتی گئی اس کے چہرے پر سے خوف کی پرچھائیوں کے بادل ہٹنے گئے۔بس کو ہاتھ دے کر اس نے گاوں کی جانب آخری بار دیکھا اور سکون کی سانس لیتے ہوئے بس میں سوار ایک نئے سفر کا تعین کر لیا۔ بس متحرک ہو گئی اور دور ایک شور سا اٹھا تلواریں ہاتھ میں تھمائے ان سب کے بدن کیڑے مکوڑے لگنے لگے وہ ان سب سے آزاد ہو چکی تھی ۔ اس کی چادر کے پلو سے بندھی اٹھنی اس کے سفر کے لئے ناکافی تھی ۔بڑی بڑی مونچھوں والا ٹکٹ کنڈیکٹر اس کے قریب آیا اور اپنی بھاری بھرکم آواز میں کہہ رہا تھا کہاں کی ٹکٹ کاٹوں پہ سمرن حواس باختہ ملتجی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہہ رہی تھی کہ اس کے پاس کرایہ کے پیسے نہیں ہیں ۔دائیں ہاتھ سے مونچھ کو تاو دیتے ہوئے گویا ہوا کہ ٹکٹ خریدنے کے لئے اگر جیب میں پیسے نہیں ہیں تو گھر سے باہر قدم کیوں اٹھایا ؟ یہ تو بتاو تم نے جانا کہاں ہے ؟
جہاں بس کا آخری اسٹاپ ہے وہاں وصولی کر دوں گی۔سمرن نے برجستہ فیصلہ سنا دیا۔
اوہ تو یوں کہو ناں، تمہارے پاس تو بہت دولت ہے ، تم اگلی سیٹ پہ آ جاو ، لاو بچہ مجھے دو ۔
نہیں نہین مجھے اگلی سیٹ پہ نہیں جانا ، مجھے سفر میں قے نہیں آتی کہتے ہوئے سمرن نے ہلکی سی مسکراہٹ بھی دے ڈالی ۔
وہ مونچھ کو تاو دیتے ہوئے ایک آنکھ ٹیڑھی کئے سیدھا ڈرائیور کے پاس پہنچا اور کھسر پھسرکرنے لگا اور سمرن بیٹے کی گول مٹول کلائی پہ بندھی چاندی کی زنجیر پہ نظریں ٹکائے ایک پرسکون خواب کی تعبیردیکھ رہی تھی ، بیٹے پیدا ہوتے ہی ماں کے رکھوالے بن جاتے ہیں کے انمول خیالات اس میں ایک نیا ولولہ پیدا کر رہے تھے۔ بس اڈہ آ چکا تھا ، مونچھوں کو تاو دیتے ہوس کا ماراشیطان ہونٹوں پہ زبان پھیراتے سمرن کو ایک نئی نویددے رہا تھا کہبس کھڑی ہوتے ہی اڈے میںآرام کرنے کے لئے چوبارہ موجود ہے چلیں ؟
ہاں چلتی ہوں کہہ کے بس سے اترتے ہی بیٹے کی کلائی سے چاندی کی زنجیر اتاری ، اسے اونے پونے دامون فروخت کرکے ہاتھ میں ساری رقم تھمائے اس شیطان صفت کنڈیکٹر سے کہا یہ رہی نقدی اپنی ٹکٹ کی وصولی کر لو ۔۔۔ !!
سمرن نے وہیں سے ایک چپل خرید کرکے پاوں میں پہنے سکون کا سانس لیا بیٹے کو دیکھا تو اس کی مسکراہٹ میں کھوئی اڈے سے قدرے کچھ فاصلہ پہ اپنی ایک اسکول کی ہندو دوست شکنتلا کے پاس فی الوقت جانے کا ارادہ کر لیا آٹو رکشا میں اتنی بھیڑ کہ دوسرے کی گود میں بیٹھنا پڑا ۔ مجبوری تھی سو کٹ گئی اور شکنتلا کے دروازے پہ دستک دی تو اس نے بڑی فراخدلی کا ثبوت دیتے ہوئے استقبال کیا ۔
ارے سمرن آنے کی اطلاع تک نہیں کی اور یہ گول مٹول کتنا پیارا بچہ ہے شکنتلا بچے کو دیکھ دیکھ نہال ہو رہی تھی ۔کہو کہاں سے آ رہی ہو ؟
سب کچھ بتاتی ہوں ذرا بیٹے اور خود کو صاف کرکے اسے دودھ پلا لوں ، سفر میں بھوک سے بلکتا رہا ہے ۔
ہاں ہاں کیوں نہیں وہ سامنے واش روم ہے ، تم اپنا کام ختم کر لو اتنے میں باورچی خانہ میں جو تھوڑا سا کام باقی رہ گیا ہے اسے نپٹا لیتی ہوں
سمرن واش روم سے فارغ ہو کر بیٹے کو دودھ پلاتے سوچ رہی تھی کہ بمبئی کے علاقہ تھانہ میں اس کے گھر کو ہندووں نے جلا کے خاکستر کیا اور پھر ناجائز قبضہ بھی جما لیا اور آج شکنتلا نے گھر میں پناہ دے کر انسانیت کا بول بالا کر دیا ہے ، رفیق دودھ پیتے پیتے ماںکو دیکھے جا رہا تھا اور ماں کی تمام تکالیف یکسر اختتام پذیر ہو کر نئے عزم کا اعادہ کر رہی تھیں ۔ وہ دو چار روز میں ہی اپنا کوئی مستقل ٹھکانہ بنانا جاہ رہی تھی۔
بچہ دودھ پی کے گہری نیند میں پریوں کی رونقوں میں چلا گیا اور سمرن نے کھانا کھاتے کھاتے اپنی ساری داستان شکنتلا کے گوش گذار کرکے اپنے من کی آگ کو قدرے کم کیا ، شکنتلا اسے حوصلہ دئے جا رہی تھی اور جب تک اس کا دل چاہے اس کے ساتھ رہ سکتی ہے کے مثبت رویے پہ سمرن نے اس کا شکریہ ادا کیا۔
تین شب گذار کے چوتھے دن صبح صبح سمرن نے اجازت چاہی اور الوداع کہتے ہوئے شکنتلا کی آنکھیں بھر آئیں ، دیکھو سمرن جب دل چاہے واپس آ جانا اس گھر کے دروازے کشادہ رہیں گے ۔
سمرن بڑی امی کے بڑے بیٹے کے پاس گئی پناہ مانگی تو اس نے ٹکے سا جواب دے دیا اور اوپر سے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ اس کی اولاد جوان ہے اور جو تم نے کیا ہے وہ ہم اپنی اولاد کو نہیں کرنے دیں گے ۔ سمرن کے کانوں میں جیسے سیسہ پگھلا کے ڈال دیا گیا ہو اپنے بیٹے کو لے کر اس دروازے پہ پہنچ گئی جو کہ بمبئی کے مرکز میں اس کی مسلمان سہیلی کا گھر تھا۔ اس نے سمرن کا خیر مقدم کیا اور وہاں سہیلی کے ہم عمر اکلوتے بیٹے کے ساتھ رفیق بھی پلنے لگا ۔ سہیلی ریشم پان کی سپاری کترنے کا کام کرتی تھی سمرن نے بھی اسے اپنی روزی کا ذریعہ بنا لیا ۔ محنت ہوتی رہی اور اخراجات چلتے رہے ۔ ایک دن اسے خیال آیا کیوں نہ ماں کو فون کیا جائے جو دوبئی میں کام کرتی ہے ۔ چار و ناچار فون کیا تو پتہ چلا کہ ماں بھی کام نہ ہونے کی بنا پہ واپس آ رہی ہے اور پھر چند ہی دنوں میں ماں بھی بمبئی واپس آ گئی ۔ گلے شکوے سب دور ہوئے اور سمرن نے اپنی محنت سے کمائی رقم کی بچت مان کے حوالے کر دی اور ماں نے بھی دوبئی سے ملی رقم ملا کربمبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب اندھیری میں دس بائی پندرہ کا ایک جھونپڑا بیس ہزار میں خرید لیا ۔ریشم نے بڑا ساتھ دیا جو کہ ساری زندگی یاد رہے گا ۔
یہ اس زمانے کی بات ہے جب نئے نئے ویڈیوز مارکیٹ میں آئے تھے ۔ سمرن نے ٹی وی اور ویڈیو خریدا تا کہ کام سے فارغ ہو کر دماغی سکون کے لئے کوئی فلم دیکھ لیا کریں گے ۔ ایک دن ہمسائے اس سے کہنے لگے کہ ویڈو کرائے پہ دے دو اور تیس روپے انہوں نے کرایہ ایڈوانس ادا کر دیا ۔سمرن کو یوں لگا کہ یہ کام بہت اچھا رہے گا ۔ اس نے گھر میں ہی ویڈیو لائبریری بنا لی ۔ کام خوب چلنے لگا ۔ مزید ویڈیوز اور ٹی وی خریدے گئے اور بچت میں سے گھر کے رقبہ میں بھی طوالت آ گئی ۔اب ہر کوئی ملنے کی چاہت کرنے لگا ۔ واہ رے پیسہ جن کو عیب نظر آتے تھے اب وہی سمرن کے گیت گانے لگے۔ والد چل بسے اور سمرن بچپن کی یادوں کو سینے سے لگائے شب و روز دھندے میں لگی رہی ۔ چھوٹا بھائی دماغی الجھنوں میں نجانے کیسے گھر کا راستہ بھول گیا جو آج تک باوجود تلاش کرنے کے نہ مل سکا ۔کس حال میں ہو گا وہ اس کا قلق برابر رہے گا ۔ادھر فلموں کا کام اتنا چل نکلا کہ سر کھجانے کی فرصت نہ تھی۔ وہ بہن جس کے خاوند نے سمرن کو گھر رکھنے پر اپنی بیوی کو طلاق دینے کی دھمکی دے دی تھی اب ان کے تینوں بچوں کی کفالت سمرن کر رہی تھی ۔ وہ بھائی جس نے پانچ منٹس بھی سمرن کو گھر میں برداشت نہ کیا آج اس کے بچوں کو بھی سمرن خوراک بہم پہنچا رہی تھی ۔ رفیق انگلش میڈیم میں تعلیم جاری رکھے ہوئے تھا اور سمرن کی خوشی کی انتہا اس کی تعلیم میں مضمر تھی ۔ وہ پڑھ لکھ کے اپنے پاوں پہ کھڑا ہو جائے تو اس کا خلا پورا ہو جائے گا ۔رفیق کی شرارتیں اور بھی اچھی لگنے لگیں اور اس کے منہ سے نکلی ہر خواہش کو پورا کیا جاتا تا کہ وہ بچپن کے ان سنہری ایام میں اپنی کسی طلب پہ تشنگی محسوس نہ کرے۔نانا تو اس کے لاڈ پیار کو زیادہ نہ دیکھ پایا لیکن نانی نے بہت ساتھ دیا اور وہ خلش جو جوانی کے ایام میں سمرن کا مقدر بن گئی تھی کافی حد تک اس کی تکلیف کافور ہو چکی تھی ۔ وقت بہت بڑا مرہم ہے ۔بارہ سال ویڈیو کا کام بہت عمدگی سے چلتا رہا لیکن تیرھویں سال کیبل آ گئی اور کام چوپٹ ہونا شروع ہو گیا ۔بیٹا ساتویں گریڈ میں تھا کہ نانی اس دنیا سے کوچ کر گئی ۔ ماں کے فوت ہو جانے پر سمرن کو ایک بہت بڑا دھچکا لگا اور اس نے جھونپڑا فروخت کرکے کچھ اور رقم ڈال ایک بڑا فلیٹ خرید لیا ۔کاروبار بند ہونے سے رشتہ داروں کی وہ چہل پہل نہ رہی لیکن سمرن کو اس کی پرواہ نہیں تھی وہ تو بیٹے کے روشن مستقبل کے لئے محرک تھی ۔کافی سوچ و بچار کے بعد اس نے تہیہ کر لیا کہ کیوں نا بیوٹی پارلر کھول لے ڈپلومہ تو اس نے کر رکھا ہے ۔ اب ویڈیو کی طلب دم توڑ چکی ہے اور کیبل چلانے کے لئے اسے کوئی تجربہ نہیں تھا ۔ بہتری اسی میں ہے کہ کاروبار تبدیل کر لیا جائے ۔ بس اسی فیصلے پہ کاربند سمرن نے ایک دکان کرائے پہ لے کے ،، سمرن بیوٹی پارلر ،، کا افتتاح کر دیا ۔ ہاتھ کی محنت اور زبان کی مٹھاس نے گاہکوں کومدعوکیا تو دکان کی رونق بحال ہو گئی ۔ سمرن پھر سے مایوسی کے بھنور سے باہر نکل آئی لیکن ماں کی کمی محسوس ہوتی رہی ۔بیٹے کی پڑھائی اور اس کی لگن دن بدن عروج پہ جا رہی تھی ۔ وہ اپنی ایک ہم جماعت سے بھی گفت و شنید کرنے لگا تھا ۔ سمرن کو لگا اب ایک خاندان مکمل ہونے کو ہے ۔ بیٹی کی دلچسپی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کے جیب خرچ میں اضافہ کرتے ہوئے اسے لامتناہی خوشیاں میسر آ رہی تھی بلکہ اس نے بیٹے کو اجازت دی کہ آپ اپنی دوست کو گھر پہ لا کے پڑھائی کا کام مل بیٹھ کے مکمل کر لیا کریں۔ بیٹے نے ماں کی چاہتوں کو مقدم رکھتے ہوئے اس پہ عمل پیرا ہونے کی پوری پوری کوشش کی لیکن صنف نازک اپنے معاملات میں کسی کی نہیں سنتی ۔ پڑھائی مکمل کرتے ہی رفیق کو ہوٹل مینجمنٹ کورس میں داخلہ مل گیا ۔ سمرن کی خوشی کی انتہا نہ رہی جب اس نے دیکھا کہ اس کے لخت جگر نے ایسا راستہ تلاش کیا ہے جو اس کے نانا کی یاد دلاتا ہے وہ بھی تو انگریزوں کے زمانے کے خانساماں رہے تھے اور بڑی پروقار زندگی بسر کرکے الوداع ہوئے ۔ رفیق کبھی بھوکا نہیں رہے گا ، اپنے ہاتھ سے بنائے لذیذ کھانوں سے دنیا کو تسکین دے گا ۔ وہ کورس بڑی دلجمعی سے کرتا رہا اور ایک دن ایسا بھی آ گیا کہ شیف وردی میںڈپلومہ ہاتھ میں لئے ماں کے قدم چومے تو فرط جذبات سے سمرن کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو ٹپک پڑے ۔
ایک پروقار دعوت کا اہتمام کیا گیا جس میں کم و بیش سب جاننے والوں کو بھی مدعو کیاگیا رفیق کے دوسرے ساتھیوں نے اپنے اپنے ہاتھوں سے بہترین کھانون کے نمونے پیش کئے جو ان کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت تھے ۔ ماں اتنی بڑی خوشی ملنے پربیٹے پہ واری واری جا رہی تھی۔ اب رفیق کے لئے اگلا مرحلہ سمرن نے جو سوچ رکھا تھا اس پہ کاربند ہوئی اور اسے یو کے روانہ کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا ۔ رفیق کو ہوائی اڈے پہ الوداع کرنے سے پہلے وہ اس کے ماتھے پہ سہرے کی لڑیاں جھلملاتی دیکھنا چاہتی تھی لیکن رفیق کسی مقام پہ پہنچنے کے بعد شادی کے بندھن میںملوث ہونا چاہتا تھا ۔ دیڑھ سال دیس سے پردیس کا وقت ماں کے لئے بڑا کٹھن تھا لیکن بیٹے کے روشن مستقبل کے لئے جدائی برداشت کرنا پڑی ۔ وہ قانونی حیثیت میں ایک بار واپس آیا اور پانچ سال پورے ہونے پر اسے یو کے کی شہریت مل گئی۔ اب وہ اپنے پاوں پہ کھڑا ہو چکا تھا ۔ اس بار وطن واپسی پر بڑی دھوم دھام سے اس کی شادی اسی ہم جماعت سے کر دی گئی جسے وہ چاہتا تھا ۔ یو کے واپس جا کے اس نے اپنی بیوی کو بھی وہیں بلا لیا ۔ماں نے دعاوں کے ساتھ بہو کو الوداع کیا ۔ پہلے پوتے کی خوشی کی خبر ملتے ہی سمرن یو کے پہنچ گئی لیکن بہو کے تیور جداگانہ تھے ، نجانے کیوں اس کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا تھا ۔ وہ تو بیٹے بہو کی خوشیوں کی متمنی تھی اسی لئے اپنے بیوٹی پارلر کو اونے پونے فروخت کرکے چلتے کاروبارکو لات مار دی جس کا خمیازہ اسے بری طرح بھگتنا پڑا ۔بہو کے اس رویے پر کہ تم ماں کے ساتھ رہو میں تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتی کی ہلکی سی بھنک پڑتے ہی سمرن وہاں سے فوری کوچ کرکے واپس وطن آ گئی تا کہ بیٹے کا گھر آباد رہے ۔
اکیلا پن اس کا مقدر بن گیا اور وہ فلیٹ جو اس نے بڑی محنت سے بنایا تھا اب کاٹنے کو دوڑ رہا تھا ۔ وہ گھمبیر سوچوں میں مکڑی کے جالے میں پھنسی کسی خود پہ سوال کئے جا رہی تھی کہ وہ ہر بار ادھوری کیوں رہ جاتی ہے۔ یہ سب محنت ، قربانیاں اور الفت رائیگاں کیوں ہو جاتی ہے ۔ جس بیٹے کے لئے اتنی محنت کرنی پڑی اگر آج وہ بھی مکمل نہ ہو پایا تو اسے قیمتی فلیٹ کی ضرورت بھی کیا ہے اور جب بہو نے اس میں نہیں رہنا تو یہ کس کام کا ؟ شب بھر کے بکھرے بکھرے سے خواب یکجا نہیں ہو رہے تھے اور نتیجہ ایک ہی نکل رہا تھا کہ اس فلیٹ کو فروخت کرکے بیٹے کی حاجات پوری کرنے کے لئے وافر مقدار میں رقم دے دوں تا کہ وہ اپنا عالیشان ریسٹورنٹ جہاں اس کا جی چاہے بنا لے ۔ بیٹے سے فون پہ بات ہوئی اور جوں ہی فلیٹ فروخت کرنے کا تذکرہ ہوا تو اس نے بیوی سے بات کی اور یوں حتمی فیصلہ کرنے میں آسانی ہو گئی ۔
فلیٹ ڈیڑھ کروڑ انڈین روپے میں بک گیا جس کی آدھی رقم سمرن نے بیٹے کے نام کر دی اورباقی ماندہ بچت کے اکاونٹ میں جمع کرا دی اسی کے منافع سے ہر مہینے سمرن نے کرایہ کا مکان اور گھر کا خرچہ چلایا ۔ دل کسی بھی طرح مطمن نہیں ہو پارہا تھا ساری زندگی محنت کرنے والی سمرن آج زندگی کے دو راہے پہ ایک بار پھر اکیلی تھی ۔ اس نے فیس بک میں اپنے وقت کو سرف کرنا شروع کر دیا ۔ دوستوں کی بہتات ہوتی گئی اور وہ ان کے ساتھ گفت و شنید کرکے قدرے محسوس کرتی رہی کہ یہ سب لوگ اسی کی طرح ہیں ۔ کچھ کرنے کی لگن میں اس نے تیار شدہ نسوانی ملبوسات کا اسٹور کھول لیا ۔زیادہ تر وقت کاروبار میں بٹ جاتا لیکن رات پھر وہی تنہائیاں کاٹنے کو دوڑتیں ۔ پوتی کے آنے سے اس نے محسوس کیا کہ اب رفیق کا بیٹا بیٹی اسکی رونقوں میں اضافے کا سبب بنیں گے لیکن یہ ایک امید ہی رہی ۔ رفیق کو ایک اچھی نوکری دبئی میں مل گئی اور وہ اپنے بیوی بچوں سمیت وہیں رہنے لگا ۔
فیس بک کی زندگی میں مخلص دوسروں کی تلاش میں سمرن کو ایک ایسا شخص بھی ملا جو کراچی پاکستان سے رات گئے تک ان باکس بڑے دھیمے لہجے میں سمرن سے باتیں کرتا رہتا ۔دھیرے دھیرے وہ سمرن کے من میں اپنی محبت کے بیج بوتا رہا ، یہاں تک کہ نجی زندگی کے اوراق بھی الٹنے شروع ہو گئے ۔ محبت کی پیاسی سمرن کو یوں لگا کہ کوئی ہے جو اس کی پرواہ کر رہا ہے اور پھر ان باکس سے بات اسکائپ تک پہنچی ۔ وہ ایک دوسرے کے سامعین اور ناظرین بن گئے ۔ اب کیا تھا سمرن ہر لمحے راشد کے خیالوں میں رہنے لگی ۔ جب بھی بات ہوتی تو وہ خود کو دنیا کا ستایا ہوا انسان محسوس کرتا اور یہی کہتا کہ سمرن تیرے بغیر زندگی کا تصور ناممکن ہے ۔ سمرن کو اپنے اندر کا خلا پورا ہوتا نظر آرہا تھا ۔باتوں ہی باتوں میں کاروبار سے متعلق کھل کے بات ہوئی تو سمرن نے بتایا کہ ابھی چند دن پہلے اس نے فلیٹ فروخت کیا ہے اور اچھی خاصی رقم بنک میں جمع ہے تو راشد نے جھٹ سے کہا کہ اسے کسی اچھے کاروبار میں لگا کے بہتر زندگی بسر کرو۔ سمرن نے اسے جواب دیا کہ اکیلی عورت اب اتنے مسائل میں کیا پڑے گی تو راشد نے مسکراتے ہوئے کہا کہ وہ اب آپ کے ساتھ ہے ، گھبراتی کیوں ہو ۔پکے وعدوں کو نبھانے کی قسمیں سمرن کی ڈھارس بندھا گئیں ، اس نے اپنے بیٹے سے اسکائپ پہ بات کی اور راشد کا تعارف بھی کروایا ۔ کچھ عرصے تک بات چیت چلتی رہی اور ایک دن راشد نے خواہش ظاہر کر دی کہ وہ سمرن سے شادی کرنا چاہتا ہے ۔ سمرن کو اس رات نیند نہ آئی ۔ بیٹے کو بتایا کہ وہ راشد سے شادی کر لے تو بیٹے نے جواب دیا کہ ماں جی آپ کی یہی خواہش ہے تو کر لیں اور اس طرح طے پایا کہ سمرن اور راشد دبئی میںشادی کر لیں گے ۔ راشد کی ٹکٹ کا بندوبست ہو گیا اور وہ دونوں دبئی میں یکجا ہو گئے ۔ ہفتہ عشرہ آنکھ جھپکتے گذر گیا ۔ سمرن اور راشد نے فیصلہ کیا کہ وہ دبئی سے ہنی مون کے لئے بنکاک چلے جاتے ہیں۔ سمرن کو تو جیسے پر لگ گئے تھے ۔ تتلی کی مانند آزاد فضاوں میں اڑنے لگی ۔ وہ ماضی کے تمام غم بھول گئی اور بنکاک کے تجارتی مراکز میں راشد کی ہر خواہش کو مقدم رکھتے ہوئے جو کچھ اس نے طلب کی وہ اسے بخوشی لے کے دیتی رہی ، دنیا بھر کے نئے نئے آئی فون ، ٹیبلٹس ، لیپ ٹاپ ، کیمرے اور ملبوسات خرید کرتے وقت سمرن نے دولت کی پرواہ نہ کی بلکہ راشد کی ہر خواہش پوری کی ۔ شب و روز خوشیوں کا گہوارہ بنے رہے ۔راشد ہر روز اسے بہلاتا رہا اور خوب سیر ہو کر عیاشی جب اپنا دم توڑنے لگی تو اس نے ایک الگ ڈگر پہ سمرن سے پوچھنا شروع کر دیا کہ اب کوئی نہ کوئی کام شروع کر دینا چاہئے ۔ سمرن نے ہاں میں ہاں ملائی تو فیصلہ ہوا کہ اب واپس اپنے اپنے ممالک کو چلتے ہیں اور اگلی ملاقات ملائشیا میں رکھ لیتے ہیں اور وہاں اگر کوئی ریسٹورینٹ پسند آیا تو خرید لیں گے اور زندگی بھر اکٹھے رہنے کا عزم ہو گیا ، راشد ساتھ ساتھ یہ بھی کہتا رہا کہ اگر کوالامپور میں کوئی کاروبار نہ کھول سکے تو کوئی بات نہیں تمہارے پاس جو اسی لاکھ انڈین روپے ہیں ان کے امریکی ڈالرز خرید کے تمام رقم ساتھ لے آنا پاکستان کسی عمدہ مقام پہ اس رقم کو سرف کرکے آرام کی زندگی بسر کر لیں گے ۔ پیار کی ترسی سمرن راشد کی ہر بات کو سراہتے ہوئے اس کے نقش قدم پہ چلنے کے لئے تہہ کر چکی تھی ۔ ہوٹل کا بل ادا کرکے سمرن راشد سے جدا ہوتے وقت بہت اداس ہو رہی تھی جیسے اس سے کوئی انمول ہیرا گم ہونے لگا ہو ۔ راشد کراچی پہنچتے ہی اسکائپ پہ فوری چہرہ دکھانا میں اداس رہوں گی ۔
ہاں ہاں کیوں نہیں گھر پہنچتے ہی اطلاع کروں گا ۔ میرا دل تو چاہ رہا تھا تمہیں ابھی پاکستان لے جاتا لیکن رقم کا بندوبست بھی تو کرنا ہے ، اب جتنی جلدی ہو ملاقات ملائشیا میں ہو گی اور زندگی کی راہیں استوار کی جائیں گی ۔ لو وہ آخری کال اناونس ہو گئی ہے کہ ساتھ ہی وہ تحائف سے بھرا سوٹ کیس کونٹر پہ جمع کروا کے الوداعی ہاتھ ہلا کے مسکراتے ہوئے جہاز میں عازم سفر ہوا اور سمرن کو ایسے دھچکا سا لگا کہ وہ اس بھری دنیا میں جیسے پھر سے اکیلی رہ گئی ہوں ۔ راشد کے ساتھ گذارے دن اسے ابھی سے ستانے پہ مجبور کر رہے تھے۔ اس کی فلائٹ بھی بمبئی کے لئے تیار تھی ، وہ اپنے ہینڈ بیگ کو سنبھالے جہاز میں سفر تو کر رہی تھی لیکن خیالات کا دھارا راشد کے ساتھ منسلک تھا ۔ سفر سفر تھا طے ہو گیا ۔ گھر میں قدم رکھتے ہی اس نے اسکائپ آن کیا آڈیو ویڈیو دونوں آن تھے ، ہیلو ، ہیلو راشد کیا حال ہیں خیریت سے پہنچ گئے ہو۔
ہاں ہاں خیریت سے پہنچ گیا ہوں اور تم سناو سمرن کیسا کٹا سفر ؟
کچھ نہ پوچھو جان تمہیں الوداع کہ کے تو میں ادھوری ہی رہ گئی ۔
ایک نسوانی آواز ابھری ،، یہ کون ہیں تمہیں جان کہنے والی ؟ اور کیمرے میں اس عورت کی شکل بھی واضح تھی ، وہ پھر سے تلخی میں گویا ہوئی ، راشد بتاتے کیوں نہیں یہ کون چڑیل ہے جو ہم میاں بیوی کے درمیان حائل ہے ؟
راشد نے شی کہتے ہوئے اسے نہ بولنے کا اشارہ کیا تو تنک کر صلواتیں سناتی دوسری جانب چلی گئی ، عین اسی وقت یکے بعد دیگرے تین بچیاں اندر داخل ہوئیں اور پاپا پاپا کہتی ہوئیں راشد کے گلے لگ گئیں ، راشد نے سب کو ایک طرح سے ہانکتے ہوئے دوسری جانب کمرے کی راہ دکھائی اور وہ سب لائے ہوئے تحائف میں مصروف ہو گئیں۔
سمرن کے پاوں تلے سے زمین نکل گئی ، راشد شادی شدہ ہے اور تین بیٹیوں کا باپ بھی ۔۔۔ !!
وہ ہیلو ہیلو کرتا جا رہا تھا اور سمرن سمندر کی گہرائی میں سے ایک بار اوپر والی سطع پہ آئی تو اس نے راشد سے سوال کیا کہ آپ نے مجھے کبھی نہیں بتایا کہ آپ شادی شدہ ہیں اور تین بیٹیوں کے باپ بھی ۔۔
راشد نے جھٹ سے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ پگلی یہ میرے بڑے بھائی کے بیوی بچے ہیں میری واپسی کا سن کے گھر آئے ہیں انہی کے لئے تو چند ایک تحفے لایا ہوں، لو میں ان کو تحائف دے کے تمہیں پھر کال کرتا ہوں ، گھر ہی رہنا ، بہتر ہے اتنے میں تم رفیق سے دوبئی بات چیت کر لو۔
اسکائپ پہ سلسلہ منقطع ہو گیا ، سوچوں کے منفی مثبت اثرات مرتب ہوتے رہے اور سمرن نے بیٹے سے کال ملا دی ۔ بیٹے کی آواز سنتے ہی اس کے اداس دل میں خوشیوں کے شادیانے بجنے لگے اور بہو پوتے پوتی کی خیریت کا پتہ چلا ۔ بیٹا بھی ماں کی خیریت جان کر انتہائی مسرت و شادمانی محسوس کر رہا تھا ۔ سفر کے تمام حالات جان کر بیٹے نے ماں کے اکیلے پن کا جان لیوہ لمحات کو اب بہتر پیرائے میں دیکھا تو اس کا چہرہ بھی چمک اٹھا ۔ وہ ماں جس نے ساری زندگی اس کی پرورش اور بہتر مستقبل کے لئے اپنی جوانی برباد کر لی آج وہ بھی تنہا نہیں رہی اسے بھی ایک اچھا ہمسفر مل گیا تھا ۔باتوں باتوں میں تذکرہ چل نکلا کہ جو رقم اس کے پاس ہے اسے کسی مصرف میں لانے کا سوچا ہے ، اس پر بیٹے نے خوشی کا اظہار کیا، اتنے میں راشد کی کال آ گئی اور یوں ماں بیٹے سے جدا ہو کر اپنے مجازی خدا کی پاسداری میں چلی گئی ۔
دل سے شک دور ہوا یا ابھی تک کوئی خلش باقی ہے ؟
راشد جی آپ پہ شک کرکے میں اپنے رشتے میں قطعی خلل ڈالنا نہیں چاہتی ، میں تو آپ سے دور ہوتے ہی بہت اداس ہونے لگی ہوں ، کل ہی ملائشیا کے لئے ٹکٹ بک کروا کے مجھے بتا دینا میں کرایہ یہاں سے ادا کر دوں گی ۔ یہ کام ابھی جا کے کر لینا تا کہ میں بھی اسی دن کی بکنکنگ کروا لوں اور فکر نہیں کرنا اسی لاکھ انڈین روپے ڈالرز کیش ساتھ لے آوں گی اور جہاں آپ کہیں گے وہیں رہ لیں گے آپ کو انڈیا میں رہنا اگر پسند نہیں تو میں آپ کے ساتھ ہر جگہ رہنے کے لئے تیار ہوں ، بس ابھی جائیں اور ٹکٹ بک کروا لیں کوالالمپور کی،جاو ناں ابھی میں اب اکیلے نہیں رہ سکتی کے ساتھ ہی سلسلہ نہ چاہتے ہوئے بھی منقطع کرنا پڑا ۔
اپنے اسٹور تک جاتے جاتے اسے زمانے بھر کی رونقیں راشد کے ساتھ تا حیات رہنے میں نظر آ رہی تھیں ۔ اسٹور پہ پہنچی ہی تھی کہ اس کی ایک پرانی سہیلی اسے ملنے کے لئے وہاں آئی ۔ سونے پہ سہاگہ ، اپنی ساری کہانی اسے سنا ڈالی اور ڈالرز کی صورت میں کیش ساتھ لیجانے پہ سہیلی نے قدرے پہلو بدلتے ہوئے رائے دی کہ اتنی ساری رقم کیش میں ساتھ لئے لئے پھرنے اور بے وجہ خطرات مول لینے کی بجائے تم اپنا ٹریول کارڈ بنک سے لے کر ساتھ رکھ لو جہاں ضرورت پڑے رقم نکلوا کے سرف کر لو، چلو آو میرے ساتھابھی بنک کا وقت ہے سارا انتظام ابھی ہو جائے گا کے ساتھ ہی وہ تیزتیز قدم اٹھاتی اپنے بنک میں چلی گئی اور کچھ ہی لمحات میںکارڈ اور پن نمبر لے کے سہیلی کے ساتھ ایک اچھے ریستوران میں دوپہرکا کھانا کھایا اور ہنسی خوشی دوست الوداع ہوتے وقت تاکید کر گئی کہ پن نمبر سنبھال کے رکھنا ۔اتنے میں راشد کال پہ آ گیا ، دو دن بعد کی فلائٹ او کے تھی ، سمرن سب کچھ وہیں چھوڑ فوری اپنی ٹکٹ اور راشد کی ٹکٹ کی رقم ادا کرکے اسٹور پہ کام کرنے والوں کو ہدایات دے کر گھر چلی گئی ۔ لمحات بمشکل ختم ہوئے اور وہ کوالامپور راشد کے گلے لگ کر یوں چمٹی رہی جیسے مدتوں کی جدائی کا بوجھ ہلکا کر رہی ہو۔ وہ دونوں شہر کے مرکز میں ایک ہوٹل میں ٹھہرے ۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی راشد نے پوچھا کہ رقم کیش لائی ہو رو اسے سنبھال کے رکھنا کل صبح اٹھتے ہی کسی اچھے سے ریستوران کو خرید لیں گے۔ باتوں باتوں میں بار بار رقم کی احتیاط کی بات پہ سمرن کی ہنسی رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی اور راشد کے چہرے کے اتار چڑھاو میںتغیراتیرنگوں نے اس کی اضطراری حالت کا پول کھول دیا تو سمرن سے نہ رہا گیا ، اس نے بنک ٹریول کارڈاور بن نمبر راشد کو تھماتے ہوئے بتایا کہ ساری رقم اس میں موجود ہے ، جہاں آپ کہیں گے خرچ کر لیں گے آپ کے سوا اور اب میراکون ہے بیٹا ہے تو وہ اپنے خاندان میں خوش ہے اور میری خوشی آپ کی مسکراہٹ میں موجود ہے۔ شب بھر کافی پلان بنے اور رات کے آخری پہر نیند کی آغوش میں جانے والی سمرن دنیا و مافیہا سے بے خبر اپنے مجازی خدا کی آغوش میں خواب استراحت کے مزے لوٹ رہی تھی اور راشد نے بڑی آہستگی سے خود کو سمرن سے علیحدہ کرکے اس کے پرس ے بنک ٹریول کارڈ نکالا لیکن پن نمبر کی تلاش میں اس نے اپنا وقت ضائع کرنے کی بجائے دماغ میں ثبت کئے نمبرز کے تحت کارد بنک کابینہ میں ڈالا اور جونہی پن نمبر لگایا تو کارڈ بنک کابینہ نے ضبط کر لیا ۔ وہ پریشانی کے عالم میں کابینہ پہ مکے مارتا جا رہا تھا کہ ایک پولیس والے نے اسے منع کیا اور بتایا کہ اگر کارڈ ضبط ہو گیا ہے تو صبح بنک کھلتے ہی اپنی شناخت دکھا کے کارڈ واپس لے لینا۔ پولیس والے کی بات سنتے ہی راشد نے اپنی راہ لی اور منوں بوجھل قدموں سے ہوٹل میں آیا
راشد کہاں چلے گئے تھے آپ ؟
میں ۔۔ میں ۔۔ وہ ۔۔لیکن آپ کیوں پوچھ رہی ہیں ،مجھ پہ بھروسہ نہیں کیا ، آپ کو چھوڑ کر کہاں جا سکتا ہوں ۔ یہ بتاو آج کا پروگرام کیا ہے ؟
یہ تو آپ پہ منحصر ہے دیکھتے ہیں خوب گھوم پھر کے اگر کوئی کاروبار پسند آیا تو یہ لو کارڈ اپنے ہاتھوںسے رقم نکلوا کے سرف کر لینا ، وہ پرس میں کارڈ نہ پا کر پریشان ہوئی اور راشد کے چہرے پہ بھی پریشانی کے آثار نمایاں دکھائی دینے لگے ، کھسیانی سی ہنسی میں وہ سمرن کو بتا رہا تھا کہ وہ کارڈ لے کے گیا تم سو رہی تھی اس لئے جگایا نہیں لیکن کارڈ کابینہ میں ڈالا اورپن نمبر شائد غلط لگ جانے کی بنا پہ ضبط ہو گیا ۔ سمرن نے پن نمبر دیکھا تو وہ اپنی جگہ موجود تھا ، تھوڑی سوچ آئی کہ راشد نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ لیکن کارڈ کے ضبط ہونے کے عاتھ ساتھ ساری زندگی کی کمائی کی فکر اسے بے کل کئے جا رہی تھی ۔ اس نے فوری انڈیا فون کیا اور اپنے بنک میں رپورٹ کرا دی ، انہوں نے حوصلہ دیا کہ فکر کی کوئی بات نہیں اپنی شناخت کروا کے بنک سے کارڈواپس لے لیں۔سمرن کو جونہی کارڈ واپس ملا اس نے وہیں سے کچھ رقم اپنے اخراجات کے لئے لے لی اور ہنسی خوشی راشد کے ساتھ واپس ہوٹل میں آئی تو راشد اپنی خفت مٹانے کی خاطر ادھر ادھر کی ہانکنے لگا جسے سمرن نے اسکی اس غلطی کو ایک مذاق سمجھ کر حرف غلط کی مانند دماغ کے کورے صفحے سے مٹا دیا ۔ وہ تو اپنے شوہر نامدار کی خدمت میں اپنا تن ، من ، دھن ، نچھاور کرنے پہ تلی ہوئی تھی اس سے کیا خوف کھاتی ۔ تین چار روز چار و نچار راشد نے وہاں گذارے لیکن مایوسی کا اظہار کیا کہ یہاں کی بجائے پاکستان میں کسی کاروبار میں رقم لگانا زیاہ مناسب رہے گا، بہتری اسی میں ہے کہ یہاں مزید وقت ضائع نہ کیا جائے، واپسی چلتے ہیں اور جاتے ہی آپ کو پاکستان بلانے کی کال کرتا ہوں تو آپ آ جائے گا۔ چند ایک ضروری اشیا خریدی گئیں اور سفر بخیر واپسی کا ہوا۔
اسکائپ پہ کال چل رہی تھی ، ارشد کچھ اکھڑا اکھڑا سا ہاں ہوں کرتا جا رہا تھا ، چہرے کی شادابی مفقود تھی ، ابھی باتیں ابتدائی تھیں کہ ایک عورت کیمرے کے سامنے نمودار ہوئی یہ وہی عورت تھی جسے اس سے پہلے بھی سمرن نے دیکھ کر راشد سے پوچھا تھا کہ وہ کون ہے جو اس وقت خود کو راشد کی بیوی ظاہر کر رہی تھی اور تیں بیٹیاں بھی سامنے آ گئیں ، ان کا اپنا ایک الگ جھگڑا چل نکلا اور اس کی تخیوں میں اپنی پہلی بیوی اور بیٹیوں کے سامنے اسکائپ پہ سمرن کو تین بار طلاق طلاق طلاق کے انتہائی تلخ الفاط سننے پڑے ، بینائی کے ساتھ ساتھ سماعت کے پردوں میں ہلچل سی مچ گئی جو کہ پورے وجود میں دراڑیں بنا کر دل میں موجزن امنگوں کو چکنا چور کر گئی۔ اسکائپ کے دروازے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہو چکے تھے اور وہ اسی سوچ میں ڈوب گئی کہ عمر کے آخری حصے میں بھی وہ تنہائی کے اژدہے کا نوالہ بنی رہی ، وہ ادھوری تھی اور آخری ہچکی تک شائد ادھوری ہی رہے گی ۔۔۔ !!
چوہدری محمد بشیر شاد ۔۔ مورخہ پچیس فروری سن دو ہزار سولہ عیسوی ۔۔ ایتھنز یونان

اپنا تبصرہ بھیجیں